ایم پی کابینہ کا بڑا فیصلہ، ریاستی اسپیس ٹیک پالیسی-2026 کو منظوری دی
مدھیہ پردیش میں اساتذہ کے لیے چوتھی ’ٹائم اسکیل پے اسکیم‘ نافذ کرنے اور 322 کروڑ 34 لاکھ روپے کی منظوری بھوپال، 13 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں منگل کو منترالیہ میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں ریاست کے مفا
وزیر اعلی موہن یادو ایم پی کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کر رہے ہیں۔


نائب وزیر اعلیٰ راجیندر شکلا ایم پی کابینہ کی میٹنگ کے فیصلوں کی جانکاری دیتے ہوئے۔


وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو اور وزراء کی کونسل کے دیگر ارکان نے ٹیبلیٹ  کے ساتھ کابینہ کی میٹنگ میں شرکت کی۔


مدھیہ پردیش میں اساتذہ کے لیے چوتھی ’ٹائم اسکیل پے اسکیم‘ نافذ کرنے اور 322 کروڑ 34 لاکھ روپے کی منظوری

بھوپال، 13 جنوری (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں منگل کو منترالیہ میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں ریاست کے مفاد میں بڑا فیصلہ لیا گیا۔ کابینہ نے ’اسپیس ٹیک پالیسی-2026‘ کو منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی سولر انرجی کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے 800 میگاواٹ بجلی سے متعلق تین ایجنڈوں کو بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ اساتذہ کے لیے چوتھی ’ٹائم اسکیل پے اسکیم‘ کو نافذ کر کے 322 کروڑ 34 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ سمیت کونسل آف منسٹرز کے اراکین ٹیبلیٹ کے ساتھ شامل ہوئے۔

نائب وزیر اعلیٰ راجیندر شکلا نے اس سلسلے میں بتایا کہ وزرا کونسل کے ذریعے ریاست میں دستیاب 322 صنعتی پارک، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر اور 31 گیگا واٹ کی بجلی سپلائی، بہترین تعلیمی اداروں وغیرہ وسائل اور سازگار ماحول کے پیش نظر ’خلائی-گریڈ مینوفیکچرنگ‘ کے امکانات کے مد نظر ریاست میں ’ایم پی اسپیس ٹیک پالیسی-2026‘ نافذ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ پالیسی سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ، جیو اسپیشیل انالیسس اور ڈاؤن اسٹریم ایپلی کیشنز میں انوویشن کو بڑھاوا دے گی۔ ریاست میں آئندہ 5 سال میں ایک ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری اور تقریباً 8 ہزار کا روزگار پیدا ہوگا۔ اس پر متوقع مالی بوجھ 628 کروڑ روپے آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کے نافذ ہونے سے ریاست اسپیس ٹکنالوجی (اسپیس ٹیک) کے شعبے میں ایک مضبوط مرکز بننے کی طرف گامزن ہوگی۔ اس پالیسی کے نافذ ہونے سے ریاست خلائی صنعت کو راغب کرنے کے لیے خصوصی ترغیب، بنیادی ڈھانچے اور تحقیقی مدد کے ذریعے اپنی حکمت عملی بنا سکے گی۔ یہ پالیسی سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ، جیو اسپیشیل انالیسس، اور ڈاون اسٹریم ایپلی کیشنز (جیسے زراعت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، اور اربن پلاننگ) میں انوویشن کو بڑھاوا دے گی، جس سے معاشی ترقی، روزگار کی تخلیق اور عالمی شناخت حاصل ہوگی۔ انوویشن اور ریسرچ کے تحت اسپیس ٹیک سینٹر آف ایکسیلنس اور انکیوبیشن نیٹ ورک قائم ہوگا، جس سے ریاستی حکومت کے ذریعے مربوط اسپیس ٹیک سینٹر آف ایکسیلنس کا قیام کیا جا سکے گا۔ مدھیہ پردیش میں اسپیس ٹیک پالیسی-2026 کے نفاذ سے ریاست میں سرمایہ کاری کے ذریعے نئے روزگار پیدا ہونے کے امکانات بڑھیں گے۔ شکلا نے بتایا کہ میٹنگ میں وزرا کونسل کے ذریعے تعلیمی کیڈر کے اسسٹنٹ ٹیچر، ٹیچر اور نئے تعلیمی کیڈر کے پرائمری اور سیکنڈری اساتذہ کے لیے یکم جولائی 2023 یا اس کے بعد کی تاریخ سے 35 سال کی سروس مکمل کرنے پر، چوتھی ’ٹائم اسکیل پے اسکیم‘ مؤثر کیے جانے کی منظوری فراہم کی گئی ہے۔ اس کے لیے 322 کروڑ 34 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کونسل آف منسٹرز نے دوسرے مرحلے کے لیے 200 تمام سہولیات سے آراستہ ساندیپنی اسکولوں کے قیام کے لیے تخمینہ اخراجات 3 ہزار 660 کروڑ روپے کی منظوری فراہم کی۔ دوسرے مرحلے کے مجوزہ اسکولوں کی صلاحیت ایک ہزار سے زیادہ ہوگی۔

شکلا نے بتایا کہ وزرا کونسل نے ضلع مئوگنج میں ہوئے واقعے میں فوت اسسٹنٹ سب انسپکٹر آنجہانی رام چرن گوتم کے خاندان کو 90 لاکھ روپے کی ’شردھا ندھی‘ دینے کی منظوری دی۔ قابل ذکر ہے کہ آنجہانی گوتم کے خاندان کو 10 لاکھ روپے کی خصوصی امدادی رقم پہلے ہی یکم اپریل 2025 کو فراہم کی جا چکی ہے۔ مئوگنج ضلع تھانہ شاہ پور کے تحت گرام گڈرا میں ایک خاندان کے لوگوں کو کمیونٹی کے لوگوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ گھر کے اندر ایک شخص کی موت ہو جانے کے بعد لاش کو تحویل میں لینے کے دوران کمیونٹی نے پولیس عملے پر حملہ کر دیا تھا۔ حملے میں گوتم نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فرض کو انجام دیا اور شہید ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ وزرا کونسل نے ریاست کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تین ’سولر مع اسٹوریج سپلائی پروجیکٹ‘ کی منظوری فراہم کی ہے۔ منظوری کے مطابق ریوا الٹرا میگا سولر لمیٹڈ کے ذریعے تیار کیے جا رہے پروجیکٹ کے تحت سولر مع چار گھنٹے 300 میگاواٹ، سولر مع چھ گھنٹے 300 میگاواٹ اور سولر مع 24 گھنٹے 200 میگاواٹ بجلی سپلائی کی سنگل سائیکل چارجنگ پر مبنی انرجی اسٹوریج پروجیکٹ کی منظوری فراہم کی گئی ہے۔ اس پروجیکٹ سے ریاست میں ’پیک ڈیمانڈ‘ کے وقت بھی سستی، صاف اور بھروسہ مند بجلی دستیاب ہو سکے گی۔ اسی طرح پون توانائی پروجیکٹس سے توانائی کی دستیابی بھی غیر یقینی رہتی ہے، کیونکہ یہ ہوا کی دستیابی اور رفتار پر منحصر کرتی ہے۔ مدھیہ پردیش میں قابل تجدید توانائی کی بڑھتی حصہ داری، گرڈ استحکام کی ضرورت، پیک ڈیمانڈ مینجمنٹ اور بجلی کی چوبیسوں گھنٹے دستیابی یقینی بنانے کے مقصد سے ریاست میں قابل تجدید توانائی پر مبنی انرجی اسٹوریج پروجیکٹس کا قیام انتہائی اہم ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande