
جموں صوبے کے سرحدی اضلاع میں ڈرون کو منڈلاتے دیکھا گیا
جموں، 12 جنوری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے سانبہ، راجوری اور پونچھ اضلاع میں بین الاقوامی سرحد (آئی بی) اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ واقع متعدد اگلے علاقوں میں مشتبہ ڈرونز کی سرگرمی دیکھی گئی۔ حکام کے مطابق یہ تمام ڈرونز پاکستانی حدود سے بھارتی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور چند منٹ تک منڈلانے کے بعد واپس چلے گئے۔
ڈرونز کی نقل و حرکت دیکھنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے فوری طور پر الرٹ جاری کرتے ہوئے زمینی سطح پر تلاشی اور کومبنگ آپریشن شروع کر دیا۔ راجوری ضلع کے نوشہرہ سیکٹر میں ایل او سی پر تعینات فوجی جوانوں نے گانیا–کلسیاں گاؤں کے اوپر شام تقریباً 6:35 بجے ایک مشتبہ ڈرون کی موجودگی محسوس ہونے پر میڈیم اور لائٹ مشین گنز سے فائرنگ کی۔
اسی دوران راجوری کے تیاریاتھ علاقے کے خبّر گاؤں میں بھی ایک اور ڈرون دیکھا گیا، جس پر ٹمٹماتی روشنی دیکھی گئی۔ یہ ڈرون کالاکوٹ کے دھرمسال گاؤں کی سمت سے آیا اور آگے بھراکھ کی جانب بڑھ گیا۔ سانبہ ضلع کے رام گڑھ سیکٹر میں واقع چک ببرال گاؤں کے اوپر بھی شام تقریباً 7:15 بجے ایک ڈرون نما شے کو کئی منٹ تک منڈلاتے ہوئے دیکھا گیا۔
پونچھ ضلع کے منکوٹ سیکٹر میں، جو ایل او سی کے ساتھ واقع ہے، شام تقریباً 6:25 بجے ٹین کی سمت سے ٹوپا کی طرف ایک اور مشتبہ ڈرون کی نقل و حرکت نوٹ کی گئی۔ ان تمام واقعات کے بعد متعلقہ علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس سے قبل جمعہ کی شب سانبہ ضلع کے گھگوال علاقے کے پلوڑا گاؤں میں بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک اسلحہ بردار کھیپ برآمد کی گئی تھی، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اسے پاکستان سے آنے والے ایک ڈرون کے ذریعے گرایا گیا۔ برآمد شدہ اسلحہ میں دو پستول، تین میگزین، 16 کارتوس اور ایک دستی بم شامل ہے۔ سیکورٹی اداروں نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سرحدی علاقوں میں چوکسی مزید بڑھا دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر