
میدینی پور، 12 جنوری (ہ س)۔ مغربی بنگال کے چندرکونا روڈ علاقے میں ہفتہ کو ہونے والے تشدد پر سیاسی ہنگامہ آرائی کے درمیان اپوزیشن لیڈر شبھیندو ادھیکاری کے خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اتوار کی شام، ترنمول لیڈر منیکانچن رائے کی شکایت کے بعد، پولیس نے شبھیندو ادھیکاری اور ان کے سیکورٹی اہلکاروں سمیت دس بی جے پی لیڈروں کے خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کیا۔
اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز پرولیا میں جلسہ عام سے واپسی کے دوران چندرکونا روڈ پر بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے کارکنوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ ترنمول کے حمایت یافتہ شرپسندوں نے ادھیکاری کے قافلے پر حملہ کیا اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ مارپیٹ کی ۔واقعہ کے خلاف ادھیکاری نے چندرکونا روڈ پولیس اسٹیشن کے سامنے سنیچر کی رات دیر گئے تک دھرنا دیا اور ترنمول کانگریس کے آٹھ کارکنوں کے خلاف قتل کی کوشش کی شکایت درج کرائی۔
ادھر، بی جے پی میں شبھیندو ادھیکاری پر سخت الزامات عائد کئے جانے سے ناراضگی ہے۔ اس دوران ترنمول کے نوجوان لیڈر دیبانجن منڈل نے الزام لگایا کہ بی جے پی کارکنوں اور ادھیکاری کے محافظوں نے پرامن احتجاج کے دوران ترنمول کے حامیوں پر حملہ کیا۔
دیبانجن منڈل نے چیلنج کیا،’’اگر شبھیندو ادھیکاری پٹرول-ڈیزل حملے کے الزام کو درست ثابت کرسکتے ہیں، تو وہ اپنی گاڑیوں میں نصب 360 ڈگری کیمروں کی فوٹیج کو عام کریں۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ سچ سامنے آنے کے بعد تصویر واضح ہو جائے گی۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پالش چندر ڈھالی نے کہا،’’دونوں فریقوں کی طرف سے تحریری شکایات موصول ہوئی ہیں۔ پولیس نے دونوں شکایتوں کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کر کے غیر جانبدارانہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔‘‘
اس وقت علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد