
واشنگٹن، 11 جنوری (ہ س)۔
امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے درمیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران پر کوئی حملہ کیا گیا تو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر بمباری کی جائے گی۔
قالیباف نے آج اتوار کے روز تصدیق کی کہ ان کے ملک پر کسی بھی حملے کا جواب اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا، جنہیں انہوں نے جائز اہداف قرار دیا۔ یہ بات خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بقول دشمن اندرونی طور پر دہشت گرد جنگ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔تاہم انہوں نے حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ زرِمبادلہ کی شرح کو قابو میں رکھنے اور شہریوں کی قوتِ خرید بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب ایرانی پارلیمان نے آج ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں پر بحث کے لیے اجلاس منعقد کیا، جس کے دوران ارکانِ پارلیمان نے نعرہ لگایا: ''امریکا مردہ باد!''یہ بیان ان اطلاعات کے بعد آیا ہے ،جن میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ امریکی مداخلت کے پیشِ نظر انتہائی ہائی الرٹ پر ہے، جو ایران بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کی حمایت کے لیے ہو سکتی ہے۔
اسی دوران دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں 60 گھنٹوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ بند ہے۔
گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے ایرانی حکام کو مظاہرین کے قتل سے باز رہنے کی بارہا تنبیہ کی تھی اور مداخلت کا عندیہ دیا تھا۔ گزشتہ شب انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ''اقدام کے لیے تیار ہے'''۔صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا:ایران آزادی کا خواہاں ہے، شاید ایسی صورت میں جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہو… امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔
اس سے ایک روز قبل جمعے کو امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران ایک بڑے بحران میں پھنس چکا ہے،اور اس کی قیادت کو فوجی راستہ اختیار کرنے کی دھمکی دی تھی۔
دوسری جانب متعدد ایرانی حکام نے امریکا اور اس کی اتحادی اسرائیل—جو تہران کے سخت ترین دشمن سمجھے جاتے ہیں—پر ملک میں جاری احتجاج میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ماضی میں کہا تھا:ہم ایک جنگ کے بیچ میں ہیں… یہ واقعات باہر سے چلائے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ 28 دسمبر کو تہران کے بازار میں تاجروں کی ہڑتال سے شروع ہونے والے احتجاج، جو کرنسی کی قدر میں کمی اور عوام کی قوتِ خرید میں شدید گراوٹ کے خلاف تھے، اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور ان میں حکومت مخالف سیاسی نعرے بھی شامل ہو چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan