
بھوپال، 10 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے سرکاری اور غیر سرکاری کالجوں میں زیر تعلیم یو جی اور پی جی طلبا کے لیے پرموشن پالیسی اس سال سنگین مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ پہلے اور دوسرے سال کے بعد تیسرے سمسٹر میں پرموشن کو لے کر واضح رہنما ہدایات اور وقت پر فیصلہ نہیں ہونے سے ہزاروں طلبا کا تعلیمی مستقبل تذبذب کا شکار ہو گیا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ طلبا اپنے مسائل کے حل کے لیے اعلٰی تعلیم ڈائریکٹوریٹ کے چکر کاٹنے کو مجبور ہیں، لیکن وہاں سے بھی انہیں تسلی بخش جواب نہیں مل پا رہا۔
معلومات کے مطابق یو جی اور پی جی کے دوسرے سمسٹر کے جاری نتائج کے بعد بڑی تعداد میں طلبا ایسے ہیں جن کی پرموشن کا عمل اٹک گیا ہے۔ محکمہ اعلٰی تعلیم کے او ایس ڈی تلسی دہایت نے پہلے واضح کیا تھا کہ اس سال پرموشن نہیں ہوگا، جس سے طلبا کی فکر اور بڑھ گئی۔ پرموشن نہیں ہونے کی صورت میں طلبا کو دوبارہ امتحان فارم بھرنے، فیس جمع کرنے اور نئے سیشن میں داخلے کو لے کر تذبذب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
طلبا کا کہنا ہے کہ وہ لگاتار ڈائریکٹوریٹ پہنچ کر اپنے مسائل رکھ رہے ہیں، لیکن او ایس ڈی تلسی دہایت اپنی کرسی پر ہی دستیاب نہیں رہتے۔ اس سے نہ تو طلبا کی شکایتوں کا ازالہ ہو پا رہا ہے اور نہ ہی کالج انتظامیہ کو کوئی ٹھوس رہنما ہدایات مل پا رہی ہیں۔ نتیجتاً کالج پرنسپل اور افسران بھی طلبا کو واضح جانکاری دینے میں قاصر نظر آ رہے ہیں۔ طلبا کا الزام ہے کہ ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر تال میل کی کمی کے سبب انہیں بار بار پریشان ہونا پڑ رہا ہے۔ خاص کر وہ طلبا زیادہ متاثر ہیں جو دوسرے سمسٹر میں کچھ مضامین میں فیل ہوئے ہیں۔ اگر وقت رہتے پرموشن نہیں کیا گیا، تو وہ دوسرے اور تیسرے سال کے امتحان فارم بھرنے سے محروم رہ جائیں گے، جس سے ان کا پورا تعلیمی سیشن خراب ہو سکتا ہے۔
طلبا تنظیموں کا کہنا ہے کہ روایتی یونیورسٹی نظام میں پہلے وقت رہتے پہلے اور دوسرے سال کے نتائج جاری کر دیے جاتے تھے اور پرموشن کا عمل پورا کر کے طلبا کو اگلی کلاس میں داخلہ دے دیا جاتا تھا۔ لیکن اس بار سمسٹر نظام کے باوجود عمل بے حد سست رہا ہے۔ آدھے سے زیادہ سیشن گزر چکا ہے، پھر بھی پرموشن کو لے کر صورتحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس مسئلے کو لے کر او ایس ڈی تلسی دہایت اور کمشنر اعلٰی تعلیم کو مطلع کرایا گیا تھا۔ اس پر کمشنر کے ذریعے مسئلے کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی گئی، لیکن زمینی سطح پر اب تک کوئی ٹھوس فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے طلبا میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آئندہ سیشن سے یو جی اول، دوم اور پی جی میں دوسرے سمسٹر پاس طلبا کو پرموٹ کرنے کے لیے 500 روپے فیس مقرر کیے جانے کی بات بھی چل رہی ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ جب پرموشن کی پالیسی ہی واضح نہیں ہے، تو اضافی فیس لگانے کا فیصلہ پوری طرح نامناسب ہے۔ طلبا کا الزام ہے کہ محکمہ اعلٰی تعلیم بغیر سابقہ اطلاع اور ٹائم باونڈ منصوبے کے ایسے فیصلے لے رہا ہے، جس سے طلبا پر معاشی اور ذہنی دباو بڑھ رہا ہے۔ کئی طلبا ایسے بھی ہیں جو معاشی طور پر کمزور طبقے سے آتے ہیں اور بار بار امتحان فارم اور پرموشن فیس بھرنا ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔
طلبا تنظیموں نے تنبیہ دی ہے کہ اگر جلد ہی پرموشن پالیسی کو لے کر واضح اور طلبا کے مفاد میں فیصلہ نہیں لیا گیا، تو وہ احتجاج کا راستہ اپنانے کو مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کا مقصد طلبا کو سہولت دینا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں غیر ضروری طور پر پریشان کرنا۔ فی الحال، یو جی-پی جی کے ہزاروں طلبا اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں اور اعلٰی تعلیم ڈائریکٹوریٹ سے جلد فیصلے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ محکمہ طلبا کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وقت رہتے کوئی ٹھوس حل نکال پاتا ہے یا نہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن