ایران کی فوج نے بڑھتے ہوئے مظاہروں کے درمیان عوامی املاک کے تحفظ کا عہد کیا
دبئی، 10 جنوری (ہ س)۔ ایران میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے درمیان، فوج نے عوامی املاک اور اسٹریٹجک ڈھانچے کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ہفتہ (10 جنوری) کو جاری کردہ ایک بیان میں، ایرانی فوج نے کہا کہ وہ ملک کے اہم ڈھانچے اور عوامی اثاثوں کی حفاظت کرے گ
Iran-Protest-US


دبئی، 10 جنوری (ہ س)۔ ایران میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے درمیان، فوج نے عوامی املاک اور اسٹریٹجک ڈھانچے کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ہفتہ (10 جنوری) کو جاری کردہ ایک بیان میں، ایرانی فوج نے کہا کہ وہ ملک کے اہم ڈھانچے اور عوامی اثاثوں کی حفاظت کرے گی اور عوام سے ’’دشمنوں کی سازشوں‘‘ کو ناکام بنانے کی اپیل کی ۔

فوج کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی قیادت کو سخت انتباہ جاری کرنے کے ایک دن بعد آیا ہے۔ وہیں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا کہ ’’امریکہ ،ایران کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘

اس دوران ملک میں بدامنی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے مغرب میں واقع کارج میں میونسپل کی ایک عمارت کو آگ لگا دی گئی، جس کے لئے ’فسادیوں‘ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے سیکورٹی اہلکاروں کے جنازوں کے مناظر بھی دکھائے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ شیراز، قم اور ہمدان کے شہروں میں مظاہروں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام نے مظاہروں کے ردعمل میں کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے۔ مغربی ایران میں ایک عینی شاہد نے، جس نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا، نے فون پر بتایا کہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے دستے علاقے میں تعینات کیے گئے ہیں اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے۔

ایرانی فوج اورآئی آر جی سی الگ الگ ادارے ہیں، حالانکہ دونوں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ نیم سرکاری خبر رساں اداروں میں شائع ہونے والے ایک بیان میں، فوج نے اسرائیل اور دشمن دہشت گرد گروہوں پر ملک کی عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

فوج نے کہا کہ سپریم کمانڈر کی قیادت میں ایرانی فوج دیگر مسلح افواج کے ساتھ مل کر خطے میں دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھے گی اور قومی مفادات، اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کا مضبوطی سے تحفظ کرے گی۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پورے ایران میں پھیلے ہوئے مظاہروں کا آغاز ابتدائی طور پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج کے طور پر ہوا لیکن جلد ہی اس نے سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے۔ مظاہرین نے مذہبی قیادت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کو بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے کے مطابق 9 جنوری تک 65 اموات درج کی گئی ہیں جن میں 50 مظاہرین اور 15 سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔ ناروے میں قائم تنظیم ہینگاو کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 2500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

جیسے جیسے ایران میں اپوزیشن ٹوٹ رہی ہے، ایران کے آخری شاہ کے بیٹے، جو 1979 کے اسلامی انقلاب میں معزول ہوئے تھے، بیرون ملک مظاہروں کی حمایت میں ایک نمایاں آواز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande