حیدرآباد میں نئے سال کا جشن۔ نشہ میں گاڑیاں چلانے والوں کیخلاف مہم
حیدرآباد، یکم جنوری (ہ س)۔ نئے سال کی آمد پر جہاں ایک طرف جشن کا ماحول تھا وہیں حیدرآباد پولیس کی جانب سے چلائی گئی حالت نشہ میں گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف مہم کے دوران کئی شرابیوں نے اپنی عجیب و غریب حرکتوں سے پولیس کوحیرت زدہ کردیا۔ پولیس کی گر
حیدرآباد میں نئے سال کا جشن۔ نشہ میں گاڑیاں چلانے والوں کیخلاف مہم


حیدرآباد، یکم جنوری (ہ س)۔ نئے سال کی آمد پر جہاں ایک طرف جشن کا ماحول تھا وہیں حیدرآباد پولیس کی جانب سے چلائی گئی حالت نشہ میں گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف مہم کے دوران کئی شرابیوں نے اپنی عجیب و غریب حرکتوں سے پولیس کوحیرت زدہ کردیا۔

پولیس کی گرفت میں آنے کے بعد اپنی گاڑیاں بچانے کے لیے نوجوانوں نے سڑکوں پر ہنگامہ برپا کیا جس کی ویڈیوز اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔پرانے شہر کے علاقہ فلک نما میں اس مہم کے دوران پکڑے گئے ایک نوجوان نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ پولیس کے ہاتھوں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد وہ نوجوان سڑک کے درمیان لیٹ گیا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔اس نے پولیس کے پاوں پکڑ لئے اور گڑگڑاتے ہوئے کہا کہ ’’میری بائیک واپس کر دیں، اگر میں گھر بغیر بائیک کے گیا تو گھر والے بہت ماریں گے۔‘‘اس کا کہنا تھا کہ پچھلی بار بھی پکڑے جانے پر اسے گھر میں سخت پٹائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی طرح کلثوم پورہ علاقہ میں ایک اور شخص نے پولیس سے بحث شروع کر دی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ چونکہ نیا سال ہے اس لئے اس نے صرف تھوڑی سی شراب پی ہے لیکن پولیس کی مشین (بریتھ اینالائزر) غلطی سے ریڈنگ زیادہ دکھا رہی ہے۔ ادھر نامپلی میں ایک نوجوان نے تو حد ہی کر دی، پولیس کی جانب سے گاڑی ضبط کرنے پر اس نے اپنا سر دیوار سے مارنا شروع کر دیا اور کافی دیر تک ہنگامہ آرائی کرتارہا۔پولیس نے ان تمام افراد کی گاڑیاں ضبط کر لی ہیں اور ضابطہ کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیاپر ان افرادکی ویڈیوز دیکھ کر لوگ طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande