
بھوپال، یکم جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں آلودہ پانی پینے سے موت اور سینکڑوں لوگوں کے بیمار ہونے کے معاملے میں ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے بی جے پی حکومت کی شدید لاپرواہی، بے حسی اور اقتدار کے تکبر کا نتیجہ بتایا ہے۔ جیتو پٹواری نے کہا ہے کہ وزیر کیلاش وجے ورگیہ کا بیان شرمسار کرنے والا ہے۔ حکومت بھی موت کے اعداد و شمار کو چھپا رہی ہے۔ حکومت اور نگر نگم موت کے لیے ذمہ دار ہے۔
جیتو پٹواری نے جمعرات کو میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ”بی جے پی رہنماوں میں اقتدار کا تکبر راون سے بھی بڑا ہو گیا ہے۔ تبھی جب صحافی عوام کے سوال پوچھتے ہیں، تو وزیر انہیں گالیاں دیتے ہیں۔ یہ جمہوریت نہیں، بلکہ آمریتی سوچ کا مظہر ہے۔“ انہوں نے کہا کہ اندور کی عوام نے بار بار بی جے پی پر بھروسہ جتایا۔ ”اندور نے بی جے پی کو ممبر پارلیمنٹ، 9 ارکان اسمبلی، میئر اور پورا نگر نگم دیا۔ بدلے میں بی جے پی نے شہر کو زہریلا پانی دیا اور اموات سونپ دیں۔ آج 13 اموات کی بات سامنے آ رہی ہے، جبکہ خود وزیر اعلیٰ 4 اموات ہی قبول کر رہے ہیں۔ کیا وزیر اعلیٰ بھی اموات کی تعداد چھپانے کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں؟“
ریاستی کانگریس صدر نے سوال اٹھایا کہ اب تک قصوروار افسران اور ذمہ دار عوامی نمائندوں پر کوئی سخت کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ وزیر اعلیٰ صحیح فیصلہ کیوں نہیں لے رہے؟ جن کی لاپرواہی سے بے قصور شہریوں کی جان گئی ہے، ان کے خلاف غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج ہونا چاہیے۔ اندور کے میئر بھی اس انتظامی ناکامی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ پٹواری نے کہا کہ گندہ پانی پینے کے سبب اندور میں 13 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، اس کے باوجود پوری بی جے پی حکومت اقتدار کے نشے میں مدہوش نظر آ رہی ہے۔ نہ ہمدردی ہے، نہ سیکورٹی، نہ جواب دہی۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”اس افسوسناک واقعے میں میں اور پوری کانگریس پارٹی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور اس انسانی بحران میں حکومت کے ساتھ تعاون کو بھی تیار ہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ عہدے کا وقار ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کو قصوروار لوگوں سے فوری استعفیٰ لینا ہوگا اور متاثرہ لواحقین کی حقیقی، ٹھوس مدد یقینی کرنی ہوگی۔ صرف بیان، دورے اور ایونٹ سے کسی خاندان کا درد کم نہیں ہوگا۔“ انہوں نے واضح کیا کہ یہ موضوع سیاست کا نہیں، بلکہ انسانی ذمہ داری اور جواب دہی کا ہے۔ ”بدقسمتی ہے کہ آپ کی حکومت کی لاپرواہی متاثرین کی زندگی کو اور زیادہ مشکل بنا رہی ہے۔“
پٹواری نے مانگ کی ہے کہ ”اندور کے لیے فوری ایک مضبوط، قابل اور آزاد انچارج وزیر کی تقرری کی جائے، جسے واضح اختیارات ہوں کہ وہ جواب دہی طے کرے، قصورواروں پر کارروائی کرے اور ضروری ہونے پر ان سے استعفیٰ لے سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی کانگریس نے اس پورے معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل کر دی ہے، جس کی جانچ جاری ہے۔ جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف کارروائی یقینی کی جائے گی۔ مہلوکین کے لواحقین کو 1 کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔ وزیر اعلیٰ کو قصورواروں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرانی چاہیے اور صحافیوں سے بدسلوکی کرنے والے وزیر سے استعفیٰ لینا چاہیے۔‘‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن