سنگرور میں کسان گلزار سنگھ کی موت کے بعد کشیدگی، اسپتال میں پولیس تعینات
سنگرور، 8 ستمبر (ہ س)۔ پنجاب میں منشیات کے مسئلے پر سوال اٹھانے والے 50 سالہ کسان گلزار سنگھ کی موت کے بعد منگل کو سنگرور کے اسپتال میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران اسپتال اور آس پاس کے علاقے میں 100 سے زائد پولیس
سنگرور میں کسان گلزار سنگھ کی موت کے بعد کشیدگی، اسپتال میں پولیس تعینات


سنگرور، 8 ستمبر (ہ س)۔ پنجاب میں منشیات کے مسئلے پر سوال اٹھانے والے 50 سالہ کسان گلزار سنگھ کی موت کے بعد منگل کو سنگرور کے اسپتال میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران اسپتال اور آس پاس کے علاقے میں 100 سے زائد پولیس اہلکار تعینات رہے۔ گاؤں کے لوگوں اور مقامی باشندوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے۔

گلزار سنگھ نے گزشتہ ہفتے دڑبہ میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران منشیات کی فروخت کا معاملہ اٹھایا تھا۔ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں انہوں نے اپنے بیٹے کے منشیات کا عادی ہونے اور علاقے میں نشہ آور اشیا کی آسانی سے دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

گاؤں والوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے بعد گلزار سنگھ پر دباؤ بنایا گیا اور انہیں پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔ تاہم، پولیس نے ہراساں کرنے اور تشدد کے الزامات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

گلزار سنگھ کو پہلے دڑبہ کے اسپتال لے جایا گیا تھا۔ وہاں سے انہیں پٹیالہ کے راجندر اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد میں بہتر علاج کے لیے لدھیانہ لے جایا گیا، جہاں ان کی موت ہوگئی۔اس واقعے سے چند روز قبل منشیات مخالف کارکن موہنجیت سنگھ نے بھی سنام میں وزیر اعلیٰ کی ریلی کے دوران سیاہ پرچم دکھانے کے بعد پولیس پر تشدد کا الزام عائد کیا تھا۔ ان واقعات کے باعث علاقے میں سیاسی اور سماجی سطح پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

پولیس نے خودکشی پر اکسانے اور ہراساں کرنے کے الزامات میں ایک سرپنچ اور دو دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ حکام کے مطابق، متوفی نے اپنے ابتدائی بیان میں گاؤں کے سرپنچ اور دو دیگر افراد کے نام لیے تھے۔پٹیالہ رینج کے پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل کلدیپ سنگھ چہل نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد گلزار سنگھ کی میت اہل خانہ کے حوالے کر دی جائے گی۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور دیہاتیوں کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande