
نئی دہلی، 7 ستمبر (ہ س)۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ خواتین ارکان اسمبلی اور خواتین عوامی نمائندوں کو بااختیار بنانے سے جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی کامیابی کے لیے مکالمہ، شراکت داری اور اعتماد ضروری ہے۔ خواتین عوامی نمائندوں کو قانون سازی کے عمل، پالیسی سازی، قوانین اور بجٹ کی بہتر سمجھ پیدا کرکے اپنی ریاستوں اور ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
برلا پیر کے روز قومی خواتین کمیشن کی جانب سے منعقدہ دو روزہ صلاحیت سازی کی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
لوک سبھا اسپیکر نے خواتین ارکان اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ عوامی خدمت کو جامع حکمرانی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی قیادت کو مضبوط بنانے سے حکمرانی کے نظام میں زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی ہوگی اور جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے۔
’شی اِز اے چینج میکر‘ پہل کے تحت فریدآباد واقع تاج سورج کنڈ ریزورٹ میں ’خواتین عوامی نمائندوں کے لیے صنفی حساس حکمرانی‘ کے موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں ملک بھر سے 100 سے زیادہ خواتین ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی ارکان نے شرکت کی۔
اس موقع پر قومی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن وجے راحتکر نے کہا کہ خواتین ارکان اسمبلی صرف اپنے انتخابی حلقوں کی نمائندہ نہیں ہیں بلکہ تعلیم، صحت، معیشت، ٹیکنالوجی، سلامتی اور بہتر حکمرانی جیسے اہم مسائل پر معاشرے کی مضبوط آواز بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاست اور حکمرانی میں خواتین کی شرکت سے پالیسیوں میں ایک مختلف اور ضروری نقطۂ نظر شامل ہوتا ہے۔ خواتین عوامی نمائندوں کی قیادت معاشرے میں وسیع پیمانے پر تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے خواتین ارکان اسمبلی سے اپنے آئینی حقوق اور عوامی پلیٹ فارم کا مؤثر استعمال کرنے کی اپیل کی۔
راہتکر نے کہا کہ خواتین عوامی نمائندوں کو یہ یقینی بنانے کے لیے بھی کام کرنا چاہیے کہ ان کے علاقوں کی خواتین اپنے حقوق کو سمجھیں اور حکومت کی فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ورکشاپ کے پہلے دن قیادت، قانون سازی کے کام کاج، عوامی پالیسی اور صنفی حساس حکمرانی سے متعلق چار تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے۔ ان اجلاس میں خواتین ارکان اسمبلی کو حکمرانی اور عوامی نمائندگی سے متعلق عملی پہلوؤں کی معلومات فراہم کی گئیں۔ ساتھ ہی مختلف ریاستوں کی خواتین عوامی نمائندوں کو اپنے تجربات اور کامیاب اقدامات شیئر کرنے کا موقع بھی ملا۔
قومی خواتین کمیشن کے مطابق، اس طرح کے پروگراموں کا مقصد خواتین ارکان اسمبلی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ وہ پالیسی سازی، حکمرانی اور عوامی خدمت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں اور عوامی زندگی میں خواتین کی قیادت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد