
دہرادون، 6 ستمبر (ہ س)۔ ہلدوانی کے بنبھول پورہ علاقے میں ریلوے کی زمین پر مبینہ تجاوزات کے معاملے میں سپریم کورٹ 9 ستمبر کو اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے۔ اس مقدمے کو چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے اس مقدمے کی سماعت کے لیے تاریخیں مقرر کی جا رہی تھیں، تاہم مقدمہ فہرست میں 15ویں نمبر کے بعد ہونے کے باعث مسلسل سماعت نہیں ہو سکی۔ ریلوے اور اتراکھنڈ حکومت کے وکلا نے سپریم کورٹ کی بنچ سے معاملے کی جلد سماعت کی درخواست کی تھی، جس کے بعد اب 9 ستمبر کو اس پر فیصلہ آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
اس معاملے میں ہلدوانی کے بنبھول پورہ علاقے کے سیکڑوں خاندان سرکاری اراضی پر مبینہ تجاوزات کے دعوے کی زد میں ہیں۔ اسی کے پیش نظر وزارتِ داخلہ نے سپریم کورٹ میں سماعت کے روز سکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی ہدایت ضلعی انتظامیہ کو دی ہے۔ معلومات کے مطابق وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بھی اس معاملے میں ریاستی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں مؤثر پیروی کے لیے پہلے ہی ضروری ہدایات جاری کی تھیں۔
واضح رہے کہ ریلوے اور ریاستی حکومت کی زمین پر مبینہ تجاوزات کا یہ معاملہ کئی برسوں سے مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت رہا ہے۔ بنبھول پورہ علاقے میں زمین کے قبضے اور تجاوزات سے متعلق تنازع طویل عرصے سے جاری ہے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔
دوسری جانب، ریلوے کی زمین پر رہنے والے مقامی خاندانوں کا مؤقف ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے یہاں آباد ہیں۔ بعض خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ وہ آزادی سے قبل سے اس زمین پر رہ رہے ہیں اور ان کی شناخت مقامی انتظامیہ اور سرکاری ریکارڈ میں بھی درج ہے۔ ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے طویل عرصے تک ٹیکس، کرایہ اور دیگر واجبات بھی ادا کیے ہیں۔اس معاملے میں دائر کی گئی عرضی میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ لوگوں کو اچانک اور مناسب بازآبادکاری کے انتظام کے بغیر مکانات خالی کرنے کا حکم نہیں دیا جانا چاہیے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ اس علاقے میں کئی مکانات کے علاوہ اسکول، صحت مراکز اور دیگر بنیادی سہولیات بھی کئی برسوں سے موجود ہیں۔
اب سب کی نظریں 9 ستمبر کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں اس معاملے میں عدالت کے فیصلے سے سیکڑوں خاندانوں کے مستقبل کا تعین ہونے کی توقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan