
نئی دہلی، 3 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے راجستھان اور اتر پردیش کے سرکاری اسکولوں میں بیرونی لوگوں، صحافیوں، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا صارفین کے داخلے پر لگائی گئی پابندیوں کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر رٹ پٹیشن پر غور کرنا نہیں چاہتاہے۔
عرضی میں سیکنڈری ایجوکیشن، راجستھان کے ڈائریکٹر کی طرف سے 16 اگست کو جاری کردہ سرکلر کو چیلنج کیا گیا۔ اس سرکلر کے مطابق سرکاری اسکول کے کیمپس میں کسی بھی بیرونی شخص کے داخلے کے لیے اسکول کے پرنسپل کی پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔
عرضی میں ایودھیا، یوپی کے ضلع بنیادی تعلیمی افسر کی طرف سے 19 اگست کو جاری کردہ ایک حکم کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ حکم نامے میں باہر کے لوگوں، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کے افراد کو مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کونسل اسکولوں میں داخل ہونے یا فوٹو ویڈیو بنانے سے روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ یوپی کے کئی دیگر اضلاع بشمول اعظم گڑھ، بلیا، بستی، بلرام پور، شاملی اور آگرہ میں بھی اسی طرح کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
عرضی میں کہا گیا تھا کہ مفاد عامہ میں سرکاری اسکولوں کی حیثیت درج کرنے اور عوام تک معلومات پہنچانے کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا۔ ایسا کرنا آئین کے آرٹیکلز 14, 19 (1) (اے)، 19 (1) (جی) 21 اور 21 اے کے تحت ضمانت شدہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی میں جائز صحافت اور سرکاری اداروں سے متعلق معلومات کا پھیلاو بھی شامل ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچے کی قابل شناخت تصویر یا ویڈیو ریکارڈ کرنے اور سرکاری اسکول کی عمارت، کلاس روم، بیت الخلاء، پینے کے پانی کے نظام، بجلی، دوپہر کے کھانے اور دیگر بنیادی سہولیات کی حالت ریکارڈ کرنے میں فرق ہے۔
ہندوستان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی