
نئی دہلی، 29 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو درشٹی آئی اے ایس کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے بانی اور سابق بیوروکریٹ وکاس دیویکرتی سے متعلق فرضی سوشل میڈیا پروفائلز، ڈیپ فیک ویڈیوز اور ان کی شناخت کے غلط استعمال سے متعلق مواد ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس انوپ جے رام بھمبھانی کی بنچ نے وکاس دیویکرتی کے شخصیت کے حقوق کے تحفظ کی درخواست پر یہ عبوری راحت دی۔
سماعت کے دوران وکاس دیویکرتی کی جانب سے پیش سینئر وکیل دیا کپور نے کہا کہ یہ معاملہ براہ راست کاپی رائٹ کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔ درخواست گزار ایک استاد ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر ان کی شخصیت سے متعلق مواد شائع یا نشر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور میٹا پر ان کی شخصیت سے مشابہت رکھنے والا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اپ لوڈ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی ہائی کورٹ کئی معروف شخصیات کے شخصیت کے حقوق کے تحفظ کا حکم دے چکا ہے۔ ہائی کورٹ اس سے پہلے اداکارہ خوشی کپور، جانہوی کپور، تبو، کرکٹر یوراج سنگھ، ابھیشیک شرما، فلم اداکار اور رکن پارلیمنٹ روی کشن، کانگریس لیڈر ششی تھرور، اداکار ارجن کپور، تیلگو اداکار اللو ارجن، کتھا واچک انیرودھ آچاریہ، ملیالم فلم اداکار موہن لال، بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور سابق رکن پارلیمنٹ گوتم گمبھیر، پتنجلی آیوروید کے آچاریہ بال کرشن، فلم اداکارہ سوناکشی سنہا، بابا رام دیو، فلم اداکارہ کاجول، فلم اداکار وویک اوبرائے، آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان، سابق کرکٹر سنیل گواسکر، فلم اداکار سلمان خان، اداکار اجے دیوگن، اداکارہ اور رکن پارلیمنٹ جیا بچن، صحافی سدھیر چودھری، آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن کے بانی شری شری روی شنکر، تیلگو اداکار ناگارجن، اداکارہ ایشوریہ رائے، ابھیشیک بچن اور فلم پروڈیوسر کرن جوہر کی شخصیت سے متعلق کسی بھی چیز کے بغیر اجازت استعمال پر پابندی کا حکم دے چکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد