
کوی گرو ایکسپریس سے 17.65 کلو گانجے کے ساتھ تین خواتین اسمگلر گرفتار
بھاگلپور، 24 ستمبر (ہ س)۔ بھاگلپور ریلوے اسٹیشن پر ریل پولیس اور آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم کو منشیات کے سوداگروں کے خلاف بڑی کامیابی ہاتھ لگی ہے۔ پولیس نے اسٹیشن پر کھڑی کوی گرو ایکسپریس ٹرین (13015) میں سخت تلاشی مہم چلا کر تقریباً 17.65 کلوگرام غیر قانونی گانجے کے ساتھ تین خواتین اسمگلروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے۔
برآمد شدہ گانجے کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ریل تھانہ انچارج کی قیادت میں تشکیل دی گئی خصوصی سیکورٹی ٹیم نے جیسے ہی کوی گرو ایکسپریس بھاگلپور اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر رکی، اس کی مشتبہ بوگیوں میں تلاشی شروع کر دی۔ جنرل کوچ میں بیٹھی تین خواتین کی مشتبہ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے لیڈی پولیس اہلکاروں کی مدد سے ان کے بیگز کھلوائے گئے۔ تلاشی کے دوران بیگز کے اندر سے چھپا کر رکھے گئے گانجے کے متعدد پیکٹ (کل وزن 17.65 کلو) برآمد ہوئے، جس کے بعد تینوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کی باضابطہ پوچھ گچھ میں گرفتار خاتون اسمگلروں کی شناخت منظرِ عام پر آئی ہے۔ یہ تینوں خواتین مغربی بنگال کے بردوان ضلع کی اصل باشندہ ہیں۔ ان کی شناخت بردوان کے مختلف تھانہ علاقوں کی رہنے والی 32 سالہ ریتا داس، 28 سالہ سومترا منڈل اور 35 سالہ مایا کرماکر کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ سبھی کیریئر کے طور پر کام کر رہی تھیں اور بردوان سے ہی گانجے کی یہ بڑی کھیپ لے کر بھاگلپور کے مقامی سنڈیکیٹ کو سپلائی کرنے آ رہی تھیں۔
معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے ریل تھانہ انچارج نے بتایا کہ گرفتار خواتین کے خلاف بھاگلپور ریل تھانے میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ٹرینوں کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف آر پی ایف اور جی آر پی کی یہ مشترکہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی۔‘‘
ان خواتین سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر بھاگلپور کے ان مقامی اسمگلروں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے، جنہیں یہ کھیپ ڈلیور کی جانی تھی۔ جلد ہی پورے گروہ کا پردہ فاش کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن