
لکھنؤ، 23 ستمبر (ہ س)۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بدھ کو لکھنؤ میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ پانچ کالی داس مارگ پر ’بھارت ٹیکسی‘ اور ’وزیر اعلیٰ کسان خوشحالی اسکیم‘ (مکھ منتری کرشک سمردھی یوجنا)کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک، وزیر زراعت سوریہ پرتاپ شاہی، وزیر تعاون جے پی ایس راٹھور سمیت دیگر افراد موجود تھے۔اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اگر ہتھیار کسی منفی سوچ رکھنے والے شخص کے ہاتھ میں دے دیے جائیں تو وہ اس طاقت کا استعمال تباہی، استحصال اور بدامنی پھیلانے کے لیے کرے گا۔ لیکن یہی طاقت مثبت اور فلاحی سوچ رکھنے والے لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو وہ معاشرے اور ملک کی حفاظت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعاون کا شعبہ دو دھاری تلوار کی مانند ہے، جس کا اچھا اور برا دونوں پہلو ہیں۔ اچھی قیادت اور بہتر انتظام ہو تو تعاون کا شعبہ خوشحالی کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن قیادت غلط ہاتھوں میں ہو تو یہی شعبہ معاشرے میں بدامنی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے پہلے ملک میں اور 2017 سے پہلے اترپردیش میں ایسا ماحول پیدا کیا گیا تھا، جس سے تعاون کا شعبہ بھی متاثر ہوا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے شکر گزار ہیں کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ملک میں الگ سے وزارتِ تعاون قائم کی گئی اور تعاون کے شعبے کے بارے میں نئی سوچ پیدا ہوئی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب ٹیکسی ڈرائیوروں، دو پہیہ اور تین پہیہ گاڑی چلانے والوں کے بارے میں بھی سوچا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ صفر کمیشن پر ’بھارت ٹیکسی‘ کا حصہ بن سکیں گے اور انہیں 5 لاکھ روپے تک کی سماجی تحفظ کی کوریج بھی حاصل ہوگی۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اگر کسان خوشحال ہوگا تو ہندوستان خوشحال ہوگا۔ تعاون کا شعبہ جتنا مضبوط ہوگا، ہندوستان اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ اسی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے یہ پلیٹ فارم ہر ڈرائیور کو یہ یقین دلانے آیا ہے کہ ڈبل انجن کی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 2017 سے پہلے اترپردیش میں کئی کئی ماہ تک کرفیو رہتا تھا، فسادات ہوتے تھے اور بدامنی عروج پر تھی۔ لوگ ٹیکسی یا تین پہیہ گاڑی میں سفر کرتے تھے تو بعض اوقات کرایہ تک ادا نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت حکمراں جماعت سے وابستہ افراد ڈرائیوروں کو مار کر ان کی ٹیکسیاں لے کر غائب ہو جاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میرٹھ میں چوری ہونے والی گاڑیوں کی چیسس تک تبدیل کر دی جاتی تھی۔ ’’2017 سے پہلے گاڑی کی بات تو چھوڑ دیجیے، اگر کوئی شخص بیل گاڑی سے جاتا تھا تو اس کے بیل تک غائب کر دیے جاتے تھے۔ ٹیکسی کے ٹائر بھی چوری کر لیے جاتے تھے۔‘‘
یوگی نے کہا کہ اس وقت سڑکوں کی حالت ایسی تھی کہ یہ سمجھنا مشکل ہوتا تھا کہ سڑک میں گڑھے ہیں یا گڑھوں میں سڑک۔ آج بین ریاستی رابطہ سڑکیں چار لین کی ہو چکی ہیں اور دیہی علاقوں کی سڑکیں بھی بہتر بنائی گئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan