
نئی دہلی، 19 ستمبر(ہ س)۔ ساکیت کورٹ احاطے میں مبینہ طور پر نشے میں دھت مرد وکلا کی جانب سے خاتون وکلا کو ہراساں کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون وکلا میں سے ایک آل انڈیا لائرز یونین (اے آئی ایل یو) کی دہلی ریاستی اکائی کی خزانچی ہیں۔ آل انڈیا لائرز یونین نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
آل انڈیا لائرز یونین نے ہفتہ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ 15 ستمبر کو ساکیت کورٹ کے چیمبر بلاک میں دو خاتون وکلا اور ایک مرد وکیل اپنے دو موکلوں کے ساتھ اپنے چیمبر میں مقدمے کی ڈرافٹنگ کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک خاتون وکیل آل انڈیا لائرز یونین کی دہلی اکائی کی خزانچی ہیں۔بیان کے مطابق، رات تقریباً ساڑھے نو بجے جب وہ کھانا کھا رہے تھے، اس وقت وکیل کی یونیفارم پہنے تین مرد وکیل مبینہ طور پر شراب کے نشے میں ان کے چیمبر میں داخل ہوئے۔ تینوں نے خاتون وکلا سے پوچھا کہ وہ اتنی رات تک وہاں کیا کر رہی ہیں اور انہیں چیمبر سے چلے جانے کے لیے کہا۔
خاتون وکلا نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ انہیں وہاں سے جانے کے لیے کہنے والے وہ کون ہوتے ہیں۔ اس کے بعد تینوں افراد نے مبینہ طور پر ان کے چیمبر میں موجود مقدمات کی فائلیں اور دستاویزات دیکھنا شروع کردیں۔ خاتون وکیل کے مطابق، مرد وکلا نے خواتین کے خلاف توہین آمیز تبصرے کیے اور ان کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی۔آل انڈیا لائرز یونین اور متاثرہ خاتون وکیل نے اس واقعے کی شکایت ساکیت کورٹ بار ایسوسی ایشن سے کی ہے۔ اس کے علاوہ ساکیت تھانے میں بھی شکایت درج کرائی گئی ہے۔آل انڈیا لائرز یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے واقعات ان وکلا اور موکلوں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں جو مشکل حالات کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔یونین نے ساکیت بار ایسوسی ایشن اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات شروع کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اے آئی ایل یو نے عدالت کے احاطے میں قائم چیمبروں میں کام کرنے والی خاتون وکلا، خاص طور پر دیر رات تک کام کرنے والی خواتین کی سکیورٹی یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وکلا کے چیمبروں اور عدالت کے احاطے میں ہراسانی، دھمکانے اور تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے مو¿ثر اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan