

ایم پی کے ضلع آگر مالوا میں اڈیشہ کے عقیدت مندوں کی کار نالے میں بہہ گئی، 8 افراد ہلاک
۔ اڈیشہ سے ماں بگلامکھی کے درشن کے لیے آئے تھے 7 عقیدت مند، اجین سے کرائے پر لی تھی کار
آگر مالوا، 19 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ضلع آگر مالوا کے نلکھیکڑا میں جمعہ کی دیر رات ماں بگلامکھی مندر کے قریب بڑا حادثہ پیش آیا۔ یہاں مندر کے قریب اڈیشہ کے عقیدت مندوں سے بھری ایک کار برساتی نالے کے تیز بہاو میں بہہ گئی۔ اس حادثے میں آٹھ افراد کی موت ہو گئی۔ متوفیان میں تین بچے، دو خواتین اور تین مرد شامل ہیں۔ تمام ساتوں عقیدت مند اڈیشہ کے رہنے والے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم کے قومی امدادی فنڈ سے متوفیان کے لواحقین کو 2-2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ دلیپ کمار سونی نے ہفتہ کے روز اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متوفیان میں 7 افراد اڈیشہ کے رہنے والے تھے، جبکہ کار ڈرائیور ارون گوئل آگر مالوا کے بڑود کا ساکن تھا۔ حادثے کے بعد تیز بہاو میں کار پلیا سے تقریباً 100 میٹر تک نالے میں بہہ گئی۔ پانی کے تیز بہاو کے سبب کار کو شدید نقصان پہنچا۔ ریسکیو ٹیم نے کار کو نالے سے باہر نکال کر لاشیں برآمد کیں۔
پولیس کے مطابق اڈیشہ کے رہنے والے 7 افراد مہاکال کے درشن کے لیے اجین پہنچے تھے اور یہاں سے تمام افراد آگر مالوا کے نلکھیکڑا میں واقع معروف شکتی پیٹھ ماں بگلامکھی مندر میں درشن کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے اجین سے کار کرائے پر لی تھی۔ تمام لوگ جمعہ کو ماں بگلامکھی مندر میں درشن کے لیے نلکھیکڑا پہنچے۔ رات تقریباً تین بجے یہ حادثہ پیش آ گیا۔ اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی اور مقامی لوگوں کی مدد سے ریسکیو کا کام شروع کیا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران مقامی لوگوں نے رسی باندھ کر کار کو نالے سے باہر کھینچا۔ اس کے بعد پولیس نے کار میں پھنسے لوگوں کی لاشوں کو نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ موقع پر انتظامیہ اور پولیس کی ٹیم موجود ہے۔
حادثے میں جاں بحق کار ڈرائیور کی شناخت ارون گوئل کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ سدواس، بڑود، ضلع آگر مالوا کا ساکن تھا۔ اس کے علاوہ متوفیان میں رادھا رانی (33) بہیرا سال ساکن بھونیشور اڈیشہ، گیانیندر کمار بہیرا (41) ساکن کٹک اڈیشہ، ان کی اہلیہ ریتا رانی (38)، شیو پرساد بہیرا، کرشنا ولد شیو پرساد بہیرا ساکن بھونیشور، بی سائی بہیرا اور شاہرا نامی ایک بچی شامل ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ سونی نے بتایا کہ واقعہ گزشتہ رات تقریباً تین بجے کا ہے۔ اس وقت موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔ ابتدائی طور پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ بارش کے باعث نالے میں پانی کا بہاو تیز ہونے سے یہ حادثہ پیش آیا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کار اجین کی تھی۔ کار کی نقل و حرکت اور اس سے متعلق دیگر پہلووں کی بھی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ پولیس مندر اور اس کے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔ حادثے کے بعد یہاں کے انتظامات کو بہتر بنانے کی ضروریات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، کلکٹر شیر سنگھ مینا نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح نالے کا پانی کم ہونے پر کار کی چھت نظر آئی، جس کی اطلاع ایک مقامی شخص نے پولیس اور تحصیلدار کو دی۔ اس کے بعد پولیس، مجسٹریٹ اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیم موقع پر پہنچی اور کار کو باہر نکالا۔ کار سے آٹھ لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں پانچ بالغ اور تین بچے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پل کے دونوں جانب مستقل لوہے کی بیریکیڈنگ لگی ہوئی ہے۔ ایسے میں کار پل سے بہہ کر یہاں پہنچی یا کسی دوسرے راستے سے نالے میں گری، اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔
حادثے کے بعد مقامی باشندوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے امبیڈکر چوراہہ پر جام لگا دیا۔ احتجاج کے طور پر دکانیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔ ہنگامے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچی پولیس نے ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کیا اور لاٹھیاں پھٹکاریں۔ جائے وقوعہ پر کشیدگی کی صورتِ حال برقرار رہی۔ موقع پر بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات ہے۔ کلکٹر، ایس پی دلیپ کمار سونی اور اے ایس پی رویندر کمار بوئٹ سمیت انتظامی افسران موقع پر موجود ہیں۔
حادثے کے بعد جائے حادثہ پر پہنچنے والی مقامی خواتین نے دل دہلا دینے والے مناظر بیان کیے۔ دونوں خواتین مندر کے احاطے میں چنری اور پرساد کی دکان چلاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاشوں کو ڈھانپنے کے لیے کپڑا تک میسر نہیں تھا، انہوں نے چنری اور دیگر کپڑوں کا انتظام کیا۔ خواتین نے بتایا کہ بچوں کی لاشیں دیکھ کر ان کی روح کانپ اٹھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب تک وہ منظر فراموش نہیں کر پا رہی ہیں۔ مقامی خواتین نے الزام عائد کیا کہ لاشوں کو میونسپل کونسل کی کچرا گاڑی میں لے جایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ایمبولینس کا انتظام تک نہیں کر سکی۔ خواتین نے کہا کہ اگر زندہ افراد کی مدد نہیں ہو سکی تو کم از کم متوفیان کے احترام کا تو خیال رکھنا چاہیے تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے آگر مالوا کے نلکھیکڑا میں عقیدت مندوں سے بھری کار کے بہہ جانے کے نتیجے میں 8 افراد کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متوفیان کے لواحقین کو وزیر اعظم کے قومی امدادی فنڈ سے 2-2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی امدادی رقم فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن