
کولکاتا، یکم ستمبر (ہ س)۔ کَمیک اسٹریٹ واقع ترنمول کانگریس کے دفتر میں بل بورڈ ہٹانے کے معاملے پر ہوئے ہنگامے کے سلسلے میں پولیس کے نوٹس پر ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی منگل کو دوپہر تقریباً 12:17 بجے شیکسپیئر سرنی تھانے پہنچے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی تھانے کے آس پاس ترنمول کانگریس کے کارکنوں اور حامیوں کی بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔ حامیوں نے ابھیشیک کے خلاف سازش کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے نعرے بازی کی۔
یہ معاملہ گزشتہ جمعرات کا ہے۔ اس روز کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے افسران کَمیک اسٹریٹ واقع ابھیشیک بنرجی کے دفتر سے ایک بل بورڈ ہٹانے پہنچے تھے۔ میونسپل کارپوریشن کے مطابق ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ کے نام والا یہ بل بورڈ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر لگایا گیا تھا اور خطرناک حالت میں لٹک رہا تھا۔ اسی وجہ سے کارپوریشن کے اہلکار اسے ہٹانے پہنچے تھے۔الزام ہے کہ پولیس کی موجودگی میں میونسپل کارپوریشن کے افسران کے دفتر میں داخل ہونے کے دوران ابھیشیک بنرجی اور ان کے حامیوں نے سرکاری ملازمین کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔ اس دوران پولیس اور میونسپل اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ کیے جانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں شیکسپیئر سرنی تھانے میں تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں ایک شکایت میونسپل کارپوریشن کے ایک افسر اور دوسری پارک اسٹریٹ تھانے کے ایک سارجنٹ کی جانب سے درج کرائی گئی ہے۔
پولیس نے سرکاری افسران کے کام میں رکاوٹ ڈالنے، مارپیٹ، غیر قانونی اجتماع، خاتون پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور چھیڑ چھاڑ کی کوشش سمیت مختلف دفعات کے تحت کارروائی شروع کی ہے۔ اس کے بعد ابھیشیک بنرجی، راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ڈیریک او برائن، سابق رکن اسمبلی ہمایوں کبیر، ویشوانر چٹوپادھیائے اور ابھیشیک کے پرسنل اسسٹنٹ سمت رائے کو ان کے گھروں پر نوٹس دے کر پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا۔ڈیریک او برائن کو پیر کی دوپہر 12 بجے شیکسپیئر سرنی تھانے میں حاضر ہونے کے لیے کہا گیا تھا، تاہم وہ تھانے نہیں پہنچے۔ پیر کی شام پولیس نے ان کے گھر پر دوبارہ نوٹس دیا اور بدھ کو تھانے میں حاضر ہونے کو کہا۔وہیں ابھیشیک بنرجی کو منگل کو تھانے میں حاضر ہونے کا نوٹس دیا گیا تھا۔ اسی نوٹس کی تعمیل کرتے ہوئے وہ منگل کی دوپہر شیکسپیئر سرنی تھانے پہنچے۔
اس دوران ابھیشیک بنرجی اور ڈیریک او برائن کے وکیل ارک ناگ نے پیر کو پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ شیکسپیئر سرنی تھانے کی جانب سے ان کے موکلین کو بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 35 کے تحت نوٹس دیا گیا ہے، لیکن پولیس کی جانب سے آن لائن کوئی ایف آئی آر دستیاب نہیں کرائی گئی۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہیں ہے۔
وکیل کے مطابق اسی معاملے کو لے کر ابھیشیک بنرجی کی جانب سے شیکسپیئر سرنی تھانے کو جوابی نوٹس بھیجا گیا ہے، جس میں پولیس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ ڈیریک او برائن کی جانب سے بھی اسی نوعیت کا نوٹس پولیس کو بھیجے جانے کی بات کہی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan