
کولکاتا، یکم ستمبر (ہ س)۔
پریزیڈنسی اصلاحی جیل میں بند امریکی سینٹر حملہ کیس کے مجرم آفتاب انصاری کے سیل سے آئی فون، اسمارٹ فون، راؤٹر اور دیگر الیکٹرانک مواصلاتی آلات برآمد ہونے کے بعد وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے منگل کو اچانک پریزیڈنسی جیل کا دورہ کیا۔ وہ دوپہر تقریباً سوا دو بجے اصلاحی جیل پہنچے۔
جیل پہنچنے کے بعد وزیراعلیٰ نے رشی اروند کی مورتی پر گلہائے عقیدت پیش کیے اور اس سیل کا معائنہ کیا جہاں کبھی رشی اروند قید رہے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے جیل کے ایک وارڈ کے باہر سے قیدیوں سے بات چیت کی اور ان کی سہولتوں اور مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
وزیراعلیٰ نے جیل کے اندر واقع قیدیوں کی ورکشاپ کا بھی معائنہ کیا۔ یہاں قیدی کپڑوں سمیت مختلف اشیا تیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اصلاحی جیل کے احاطے میں واقع مندر میں پوجا بھی کی۔
وزیراعلیٰ کا یہ اچانک دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی انفارمیشن سینٹر پر حملے کے معاملے میں سزا کاٹ رہے آفتاب انصاری کے سیل سے کئی اسمارٹ فون، ایک آئی فون، راؤٹر، پین ڈرائیو، نقد رقم اور دیگر جدید مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے ہیں۔
اس معاملے کی تحقیقات پیر کو کولکاتا پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے حوالے کردی گئی ہیں۔ تحقیقات کا بنیادی مرکز یہ معلوم کرنا ہے کہ افتاب انصاری کے سیل تک آئی فون، راؤٹر، پین ڈرائیو اور دیگر ممنوعہ اشیا کیسے پہنچیں۔
واقعے کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ ممنوعہ اشیا جیل کے اندر پہنچانے میں کسی جیل اہلکار یا افسر کا کردار تو نہیں تھا۔ اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری جیل انتظامیہ کے بعض اہلکاروں اور جرائم پیشہ افراد کے درمیان مبینہ ملی بھگت کے حوالے سے خبردار کرچکے ہیں۔
گزشتہ 16 مئی کو وزیراعلیٰ نے محکمہ جیل کے بعض اہلکاروں کے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے جیلوں میں موجود ایسے ’گھونسلوں‘ کو ختم کرنے کی بات کہی تھی۔ اس کے بعد پریزیڈنسی جیل میں تلاشی مہم چلائی گئی تھی، جس میں 23 موبائل فون برآمد ہوئے تھے۔ اس کارروائی کے دوران دو جیل افسران کو معطل بھی کیا گیا تھا۔اس کے بعد سے جیل انتظامیہ کی جانب سے مختلف جیلوں میں مسلسل تلاشی مہم چلائی جارہی ہے، تاکہ غیر قانونی طور پر موبائل فون، منشیات یا دیگر ممنوعہ اشیا کو جیل کے اندر پہنچنے سے روکا جاسکے۔
ایسے میں آفتاب انصاری کے سیل سے جدید مواصلاتی آلات کی برآمدگی اور اس کے فوراً بعد وزیراعلیٰ کا جیل کا اچانک معائنہ حکومت کے سخت موقف کا اشارہ قرار دیا جارہا ہے۔ حکومت کا واضح پیغام ہے کہ جیل کے اندر سے چلنے والے ممکنہ جرائم پیشہ نیٹ ورک اور ممنوعہ سرگرمیوں پر کسی بھی قیمت پر قابو پایا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan