
بھونیشور، 30 اگست (ہ س)۔
عدالت کے حکم کے باوجود بیوی یا بچوں کو نان و نفقہ ادا نہ کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف اڑیسہ کے وزیراعلیٰ موہن چرن ماجھی نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ عدالت کی جانب سے مقرر کردہ نان و نفقہ یا گزارہ الاؤنس کی رقم متعلقہ سرکاری ملازم کی تنخواہ سے براہ راست کاٹ کر بیوی یا بچوں کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے۔
ریاستی حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ کی عوامی سماعت کے دوران ایسے معاملات کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی تھیں۔ ہر عوامی سماعت میں اوسطاً دو سے تین ایسے معاملات سامنے آتے تھے، جن میں سرکاری ملازمین عدالت کے واضح حکم کے باوجود اپنی بیوی یا بچوں کو نان و نفقہ یا طلاق سے متعلق گزارہ الاؤنس ادا نہیں کر رہے تھے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں نئے نظام کو نافذ کرنے کے لیے رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ اس کے تحت عدالت کی جانب سے نان و نفقہ یا گزارہ الاؤنس ادا کرنے کا حکم جاری ہونے کے بعد متعلقہ محکمے کے ڈی ڈی او کو ملازم کا ماہانہ تنخواہ بل تیار کرتے وقت عدالت کی مقرر کردہ رقم تنخواہ سے کاٹنی ہوگی۔اس کے بعد یہ رقم متعلقہ ملازم کی بیوی یا بچوں کے بینک اکاؤنٹ میں براہ راست الیکٹرانک طریقے سے منتقل کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ موہن چرن ماجھی نے کہا کہ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرنا اور بیوی و بچوں کے تئیں اس طرح کی لاپروائی ریاستی حکومت کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذکا مقصد عدالت کے احکامات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا اور ان خواتین و بچوں کی مشکلات کم کرنا ہے، جنہیں عدالتی حکم کے باوجود وقت پر نان و نفقہ نہیں مل پا رہا تھا۔
وزیراعلیٰ نے مستقبل میں اس نظام کو ریاستی حکومت کے مربوط اور خودکار ایچ آر ایم ایس نظام سے جوڑنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ اس کے ذریعے عدالت کی جانب سے مقرر کردہ نان و نفقہ سے متعلق معاملات کی کارروائی کو زیادہ منظم اور خودکار بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نظام کے نفاذ سے عدالت کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور متعلقہ خواتین و بچوں کو بروقت مالی مدد مل سکے گی۔ اس کے علاوہ انہیں نان و نفقہ کی رقم حاصل کرنے کے لیے مختلف سرکاری سطحوں پر بار بار کوشش کرنے کی پریشانی سے بھی راحت ملنے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan