ایل جی نے غذائی تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی
جموں, 28 اگست (ہ س)۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ میں غذائی تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ نے تقریباً 8,800 فوڈ بزنس آپریٹرز کو خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی ک
Lg saksena


جموں, 28 اگست (ہ س)۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ میں غذائی تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ نے تقریباً 8,800 فوڈ بزنس آپریٹرز کو خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور سنگین معاملات میں قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔حکام کے مطابق لداخ میں 428 فوڈ بزنس آپریٹرز کے پاس ایف ایس ایس اے آئی لائسنس جبکہ 8,355 کے پاس ایف ایس ایس اے آئی رجسٹریشن ہے۔ تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 پر عمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ غذائی تحفظ محض قانونی تقاضا نہیں بلکہ عوام کی صحت اور فلاح و بہبود سے متعلق بنیادی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو فراہم کی جانے والی غذا محفوظ، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق اور مقررہ معیار کی ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی صحت کو خطرے میں ڈالنے والی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔انتظامیہ نے ریستورانوں، ہوٹلوں، کھانے پینے کے مراکز اور دیگر غذائی کاروباروں کو غیر محفوظ، ناقص معیار، ملاوٹی، آلودہ یا زائد المیعاد اشیا تیار کرنے، ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔فوڈ سیفٹی محکمہ کو معائنوں، غذائی اشیا کے نمونے لینے اور ان کے تجزیے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں غیر محفوظ غذائی اشیا ضبط کرنے، ان کی فروخت و تقسیم روکنے اور متعلقہ لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔

حکام کے مطابق مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والی یا ناقص غذا فروخت کرنے پر 5 لاکھ روپے تک جرمانہ، غلط لیبل والی غذا پر 3 لاکھ روپے تک اور گمراہ کن اشتہارات یا غلط معلومات فراہم کرنے پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ غیر قانونی طور پر فوڈ بزنس چلانے پر بھی 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی گنجائش ہے۔سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں، خصوصاً غیر محفوظ غذا کے استعمال سے چوٹ، شدید چوٹ یا موت واقع ہونے کی صورت میں قید اور جرمانے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande