
پلامو، 28 اگست (ہ س)۔ ضلع میں معروف زمین کاروباری ونیت تیواری کے قتل کے مرکزی ملزم پردیپ تیواری عرف مہاکال اور راکیش تیواری کا گھر منسلک کیا گیا۔ جمعہ کو میدنی نگر سٹی پولیس اسٹیشن کے علاقے کے تحت ریڈما میں سمدا آھر اور بھگوتی اسپتال کے قریب الگ الگکارروائیاں کی گئیں۔ آپریشن کے دوران پولیس اہلکاروں نے گھر کے دروازے، کھڑکیاں، الماریاں، فرنیچر کے سامان، ورزش کے کئی سامان ضبط کر کے تھانے لائے۔یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس نے گھر سے تین مہنگی لگژری کاریں بھی ضبط کی تھیں۔25 اپریل 2026 کو ونیت تیواری کو ریڈما-سمدا آھر کے علاقے میں ان کے گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔ 26 اپریل کو اس کی لاش برہنہ حالت میں صدر پولیس اسٹیشن کے علاقے کے تحت جورکٹ کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ اسے بے دردی سے مارا پیٹا گیا اور گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیاتھا۔پردیپ تیواری مہاکال، راکیش تیواری، پرشانت تیواری، روشن تیواری، دلیپ تیواری کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ یہ واقعہ زمین کے تنازعہ کی وجہ سے پیش آیا۔پولیس نے اس کے گھر پر ڈھول اورنگاڑوںکے ساتھ نوٹس چسپاں کیا تھا تاکہ پردیپ تیواری مہاکال، راکیش تیواری سمیت دیگر ملزموں پر دباو¿ ڈالا جا سکے کیونکہ وہ مسلسل مفرور تھا۔ اسے پولیس اسٹیشن اور عدالت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی تنبیہ بھی کی گئی تھی۔ تاہم، پردیپ مہاکال کے بھائی دلیپ تیواری کو واقعے کے فورا بعد گرفتار کر لیا گیا، جبکہ پرشانت تیواری کو 22 جولائی کو جھانسی، اتر پردیش سے گرفتار کیا گیا۔ روشن تیواری نے کچھ دن پہلے سٹی پولیس اسٹیشن میں خودسپردگی کی تھی ۔پردیپ مہاکال اور راکیش تیواری اب بھی مفرور ہیں۔ایکشن ٹیم کی قیادت صدر سب ڈویڑنل پولیس افسر راجیش یادو نے کی۔ ان کے ساتھ سٹی پولیس اسٹیشن کے انچارج جیوتی لال راجوار اور دیگر پولیس اہلکار بھی تھے۔ایس ڈی پی او راجیش یادو نے کہا کہ 31 جولائی کو اشتہار چسپاں کرنے کے بعد خبردار کیے جانے کے باوجود پردیپ تیواری مہاکال اور راکیش تیواری نے عدالت اور سٹی پولیس اسٹیشن میں ہتھیار نہیں ڈالے۔ یہ کارروائی عدالت کی ہدایت پر کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی