ترسٹھ سال کی عمر میں بھی تعلیم جاری، رکن پارلیمنٹ چرنجیت سنگھ چنی نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کا آخری پرچہ دیا
چنڈی گڑھ، 20 اگست (ہ س):۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور جالندھر سے رکن پارلیمنٹ چرنجیت سنگھ چنی نے جمعرات کو پنجاب یونیورسٹی میں ماسٹر آف پبلک ایڈمنسٹریشن (ایم اے) کا آخری پرچہ دیا۔ 63 سالہ چنی نے دیگر طلبہ کے ساتھ امتحانی ہال میں بیٹھ کر امتحان د
ترسٹھ سال کی عمر میں بھی تعلیم جاری، رکن پارلیمنٹ چرنجیت سنگھ چنی نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کا آخری پرچہ دیا


چنڈی گڑھ، 20 اگست (ہ س):۔

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور جالندھر سے رکن پارلیمنٹ چرنجیت سنگھ چنی نے جمعرات کو پنجاب یونیورسٹی میں ماسٹر آف پبلک ایڈمنسٹریشن (ایم اے) کا آخری پرچہ دیا۔ 63 سالہ چنی نے دیگر طلبہ کے ساتھ امتحانی ہال میں بیٹھ کر امتحان دیا، جبکہ ان کی سکیورٹی اور دیگر عملہ باہر موجود رہا۔

امتحان کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چنی نے بتایا کہ انہوں نے بدھ کی رات تقریباً دو بجے تک پڑھائی کی اور صبح پانچ بجے اٹھ کر امتحان کی تیاری کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم ہونے پر فخر ہے اور وہ زندگی بھر خود کو اس یونیورسٹی سے وابستہ سمجھیں گے۔

چنی کے مطابق یہ ماسٹر آف پبلک ایڈمنسٹریشن کورس کا ان کا آخری پرچہ تھا اور اس کے ساتھ ان کے 20 پرچے مکمل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ نتائج میں انہیں تقریباً 70 فیصد جبکہ گزشتہ سمسٹر میں 74 فیصد نمبر حاصل ہوئے تھے۔ تین پرچوں کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔

چنی اس سے قبل پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور ایل ایل بی اور آئی کے گجرال پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی سے ایم بی اے کر چکے ہیں۔ 2023 میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں پی ایچ ڈی بھی مکمل کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں وہ پبلک ایڈمنسٹریشن اور پالیسی اصلاحات کے شعبے میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد پنجاب میں سرکاری نظام کو بہتر بنانا، بدعنوانی کم کرنا اور ایسا نظام تیار کرنا ہے جس سے غریب اور متوسط طبقے کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر چنی نے کہا کہ امتحان کے باعث انہوں نے پارٹی ہائی کمان سے پہلے ہی تحریری اجازت لے لی تھی۔ ان کے مطابق اجلاس دوبارہ ہوسکتا ہے، لیکن پرچہ چھوڑنے سے ان کی ڈگری اور تحقیقی کام ایک سال تک متاثر ہوسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ان کے لیے مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اور وہ آئندہ بھی تحقیق کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande