
علی گڑھ, 04 جولائی (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی نیشنل سروس اسکیم اکائی نے ‘ایک پیڑ ماں کے نام’ مہم کے تحت حکومت اترپردیش کے محکمہ وائلڈ لائف کے اقدام ‘‘ہریت سارتھی ابھیان’’ کے تحت سماجی تنظیم ‘‘کلائمیٹ پر چرچا’’، لکھنؤ کے اشتراک سے ایک بیداری پروگرام منعقد کیا۔ این ایس ایس دفتر کے کانفرنس ہال میں منعقدہ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی سرگرمیوں میں فعال شراکت دار بننے کی ترغیب دینا تھا۔
حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے این ایس ایس کے قائم مقام کوآرڈنیٹر ڈاکٹر عبدالجبار نے ماحولیات کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مسلسل شجرکاری اور درختوں کے تحفظ کے ذریعے ہی ماحولیات کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر ناہید اکبری اور سماجی کارکن منصور احمد خان نے سبزہ زار کے فروغ کی ماحولیاتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حاضرین کو ترغیب دی کہ وہ پھلوں کے موسم میں بیج جمع کریں اور انہیں مناسب کھلی جگہوں اور شاہراہوں کے کنارے ذمہ داری کے ساتھ بکھیر کر قدرتی شجرکاری کو فروغ دیں۔
ہریت سارتھی ابھیان کے کوآرڈنیٹر محمد کیف صدیقی نے مہم کے مقاصد اور اس کے وژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا مقصد پورے اترپردیش میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنا اور عوامی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے ہریت سارتھی کوئز مقابلے اور آن لائن ماحولیاتی حلف کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔
پروگرام کے دوران 50 سے زائد طلبہ نے ماحولیات کے تحفظ اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں پائیدار طرزِ عمل اختیار کرنے کا عہد کیا۔ پروگرام کے انعقاد میں ‘‘کلائمیٹ پر چرچا’’، لکھنؤ کے ساتھ ہی الائنس فار فوڈ ٹکنالوجی اِنّوویشن اینڈ ریسرچ ٹرسٹ کا اشتراک بھی شامل رہا۔
پروگرام کی نظامت این ایس ایس کی پروگرام افسر ڈاکٹر فوزیہ فریدی نے کی۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ