حکومت نیٹ کے معاملے پر بحث کے لیے تیار ، لیکن کانگریس نے شرطیں رکھیں: کرن رجیجو
نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ پیپر لیک معاملے پر جمعرات کو راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کے درمیان، مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن کانگریس نے بحث کے لیے شرائط رکھ دی ہیں۔ رجیجو نے
حکومت نیٹ کے معاملے پر بحث کے لیے تیار ، لیکن کانگریس نے شرطیں رکھیں: کرن رجیجو


نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔

پیپر لیک معاملے پر جمعرات کو راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کے درمیان، مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن کانگریس نے بحث کے لیے شرائط رکھ دی ہیں۔

رجیجو نے کہا کہ حکومت اور تمام پارٹیوں نے نیٹ لیک کیس پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کی قیادت میں کانگریس نے بحث سے پہلے شرائط عائد کیں۔ کرن رجیجو نے کہا کہ اس معاملے پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے اور اس پر کوئی شرائط عائد نہیں کی جانی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر سیاست کیے بغیر دونوں ایوانوں میں بحث کرنا چاہتی ہے۔ رجیجو نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں پیپر لیک کے معاملے میں قصورواروں کے لیے تیز رفتار اور سخت سزا کو یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ۔

رجیجو نے کہا کہ چیئرمین کو ایوان میں بحث کے لیے وقت طے کرنا چاہیے۔ ہم آج ہی بحث کے لیے تیار ہیں۔اس کا جواب دیتے ہوئے راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ وزیر اعظم کا آج کا بیان ’اشتعال انگیز‘ تھا۔ انہوں نے کانگریس کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو غیر جانبدارناہبحث کے لیے استعفیٰ دینا چاہیے۔ اس پر ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا، جس کے بعد چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande