ممبئی میں طلبہ احتجاج کے دوران پولیس وین کے سامنے ڈٹ جانے والی خاتون کی ویڈیو موضوع بحث، پولیس کی کارروائی پر سوالات
ممبئی ، 23 جولائی (ہ س) ۔ ممبئی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آنے والا ایک منظر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر زیر بحث آ گیا، جب ایک نوجوان خاتون نے زیر حراست مظاہرین کو لے جانے والی پولیس وین کے سامنے کھڑے ہو کر گاڑی کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوش
Protest Maha Student


ممبئی ، 23 جولائی (ہ س) ۔ ممبئی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آنے والا ایک منظر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر زیر بحث آ گیا، جب ایک نوجوان خاتون نے زیر حراست مظاہرین کو لے جانے والی پولیس وین کے سامنے کھڑے ہو کر گاڑی کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ واقعے کی ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے گردش کر رہی ہے، جبکہ اس پر سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔وائرل ویڈیو میں خاتون کو چند لمحوں تک پولیس گاڑی کے سامنے ثابت قدمی سے کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں وہاں مزید افراد جمع ہو گئے، جس کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی۔ احتجاج میں شریک بعض افراد کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد زیر حراست کچھ مظاہرین کو رہا کر دیا گیا، تاہم اس حوالے سے ممبئی پولیس نے تاحال کوئی باضابطہ تفصیل یا تصدیقی بیان جاری نہیں کیا۔ شیو سینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے بھی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے خاتون کے اقدام کو ممبئی کی ہمت سے تعبیر کیا، جس کے بعد یہ واقعہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔یہ پیش رفت مبینہ نیٹ امتحان پرچہ لیک معاملے کے خلاف جاری احتجاجی مہم کے دوران سامنے آئی۔ ملک کے مختلف شہروں میں گزشتہ چند روز سے طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ممبئی میں بھی احتجاج میں نمایاں شدت دیکھی گئی۔ اس تحریک کو کاکروچ جنتا پارٹی کی مہم سے وابستہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں طلبہ اور نوجوان کارکن سڑکوں پر نکلے۔احتجاج کرنے والوں نے امتحانی نظام میں شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے بنیادی اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا بھی مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ حکومت منصفانہ اور شفاف امتحانی نظام کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ احتجاج کے پیش نظر ممبئی پولیس نے شہر کے مختلف حساس علاقوں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے تھے۔ شیواجی پارک، سینا بھون اور ویر ساورکر مارگ سمیت کئی مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی، جبکہ ممکنہ بڑے اجتماعات کو روکنے کے لیے متعدد افراد کو احتیاطی طور پر حراست میں بھی لیا گیا۔کئی طلبہ اور کارکنوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی انہیں گھروں سے باہر نکلنے سے روکا گیا۔ بعض طلبہ کا کہنا تھا کہ دادر میٹرو اسٹیشن کے مختلف خارجی راستوں پر پولیس اہلکار موجود تھے، جو نوجوانوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے اور احتجاج میں شرکت کے شبہے میں انہیں آگے بڑھنے سے روک رہے تھے۔ احتجاج میں شریک افراد کے مطابق ابتدا میں شیواجی پارک میں اجتماع کی اجازت نہیں ملی، جس کے بعد چھوٹے چھوٹے گروپ سینا بھون کے اطراف جمع ہونا شروع ہوئے۔ بعد میں شرکا کی تعداد بڑھنے لگی اور ان کے اندازے کے مطابق ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد وہاں موجود تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب ہجوم توقع سے زیادہ بڑھ گیا تو پولیس نے نگرانی میں انہیں دوبارہ شیواجی پارک کی طرف جانے کی اجازت دے دی۔دوسری جانب ممبئی پولیس نے موقف اختیار کیا کہ عوامی اجتماع کی اجازت نہ ہونے کے باوجود تقریباً پندرہ سو افراد شیواجی پارک میں جمع ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران تقریباً دو سو افراد کو احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا۔ زون فائیو کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس مہندر پانڈت نے بھی اس تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔پولیس نے وائرل ویڈیو میں دکھائی گئی خاتون کے اقدام یا مظاہرین کی مبینہ رہائی سے متعلق گردش کرنے والے دعووں پر ابھی تک کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی ہے۔ ادھر سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے مختلف پہلوؤں پر بحث جاری ہے اور احتجاج سے متعلق عوامی اور سیاسی ردعمل میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande