
نئی دہلی ، 20 جولائی (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی آمد و رفت مکمل بند ہونے کے باعث بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 90 ڈالر فی بیرل کی سطح کو عبور کر گئی ہے۔ برینٹ کروڈ آج 90 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر کے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کی بلند ترین سطح 90.73 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ بھی آج 85 ڈالر فی بیرل کی سطح کو عبور کر گیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں، برینٹ کروڈ نے آج 2.60 ڈالر فی بیرل کی چھلانگ کے ساتھ 90.70 ڈالر فی بیرل پر تجارت شروع کی۔ ٹریڈنگ شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی قیمت کچھ عرصے کے لیے 90 ڈالر کی سطح سے نیچے گر کر 89.91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ، لیکن تھوڑی دیر بعد یہ دوبارہ 90 ڈالر کی سطح عبور کر کے 90.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 11:15 بجے بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 2.48 ڈالر فی بیرل یعنی 2.81 فیصد اضافے کے ساتھ 90.58 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی تھی۔
برینٹ کروڈ کی طرح، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈنے بھی آج کی تجارت 2.14 ڈالرکے اضافے سے 84.63ڈالر فی بیرل پر شروع کی۔ دن کی تجارت کے دوران، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کچھ دیر میں ہی 83.61 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ کچھ دیر بعد اس کی رفتار تیز ہوگئی۔ اس اضافے کی وجہ سے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے 85.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ تاہم بعد میں معمولی کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح11:15 بجے، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 2.39 فیصد اضافے کے ساتھ 84.46 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایک بار پھر خام تیل کی سپلائی میں بحران پیدا ہونے کا امکان ہے۔ فنریکس ٹریژری ایڈوائزرس ایل ایل پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انل بھنسالی کا کہنا ہے کہ جس طرح سے امریکہ اور ایران جنگ کو بڑھا رہے ہیں ، اس سے مغربی ایشیا میں امن کے امکانات بہت معدوم ہو گئے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے راستے خام تیل کی سپلائی مکمل طور پر رک گئی ہے۔
بھنسالی کا کہنا ہے کہ خام تیل کی عالمی سپلائی کا ایک اہم حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ خاص طور پر ، خلیجی ممالک سے خام تیل کی 70 فیصد سے زیادہ سپلائی اسی راستے سے ہوتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی ایک بار پھر بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس تشویش کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان ہے۔
انیل بھنسالی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت ہندوستان جیسے خام تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے تشویش کا ایک بڑا سبب بن سکتی ہے۔ اس سے ملک کے کرنٹ اکاونٹ کے خسارے میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید ، یہ مالیاتی خسارے کے ہدف کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ساتھ ہی، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت ہندوستانی کرنسی کو کمزور کر سکتی ہے۔ افراط زر میں اضافہ اور بیرونی سرمائے کے اخراج میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ اس صورتحال میں مرکزی حکومت کو معیشت پر بڑھتے ہوئے دباو کا مقابلہ کرنے کے لیے سبسڈی، شرح سود اور روپیہ ڈالر کی شرح تبادلہ پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سخت فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی