مرکز نے پاسپورٹ ویزا معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا
نئی دہلی، 17 جولائی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے متحدہ عرب امارات، کویت، سنگاپور اور آسٹریلیا میں ہندوستانی پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کے لئے وزارت خارجہ کی طرف سے اپنائے گئے تکنیکی تشخیص کے عمل کو منسوخ کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چ
SC-MEA-PASSPORT-TENDER


نئی دہلی، 17 جولائی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے متحدہ عرب امارات، کویت، سنگاپور اور آسٹریلیا میں ہندوستانی پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کے لئے وزارت خارجہ کی طرف سے اپنائے گئے تکنیکی تشخیص کے عمل کو منسوخ کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

آج مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا اور جلد سماعت کا مطالبہ کیا، جس کے بعد عدالت نے 20 جولائی کو سماعت کا حکم دیا۔

ہائی کورٹ نے 15 جولائی کومتحدہ عرب امارات، کویت، سنگاپور اور آسٹریلیا میں ہندوستانی پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کے لیے وزارت خارجہ کی طرف سے تکنیکی تشخیص کے عمل کو مسترد کر دیا تھا۔ جسٹس انلکشیترپال کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ان ممالک میں پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے میں کافی من مانی کی جا رہی تھی اور شفافیت کا فقدان ہے۔

دراصل ، وزارت خارجہ کی جانب سے پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کے لیے ٹینڈرز طلب کیے تھے۔ اس ٹینڈر میں وزارت خارجہ نے کچھ کمپنیوں کو تکنیکی طور پر نااہل قرار دیا تھا۔ تکنیکی طور ر نااہل قرار دی گئی دو کمپنیوں، ای ٹریوو ٹیک لمیٹڈ اور ویراسس لمیٹڈ نے وزارت خارجہ کے انہیں تکنیکی طور پر نااہل قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کی جانب سے ٹینڈر کے عمل میں کامیاب کمپنیوں کے ٹینڈرز منسوخ کرنے کا بھی حکم دیا۔ تاہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ لوگوں کے کام میں خلل نہ پڑے، ان کمپنیوں کو جو اس وقت پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کی خدمات فراہم کر رہی ہیں، انہیں کام جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ قانون کے مطابق تازہ ترین ٹینڈر کا عمل مکمل ہونے اور نئی کمپنیوں کے کام سنبھالنے تک موجودہ کمپنیاں کام کرتی رہیں گی۔ تکنیکی تشخیصمیں من مانے نمبردیئے گئے اور ٹینڈرنگ کے عمل میں کوئی شفافیت نہیں تھی۔ وزارت خارجہ اور متعلقہ بھارتی ہائی کمیشن نے جنرل فائنانشیل رولز کے رولز 173(4) اور 189 کی خلاف ورزی کی۔ جن کے ٹینڈر مسترد کئے گئے، انہیں ان کے مسترد ہونے کی وجوہات بھی نہیں بتائی گئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande