
ناندیڑ میں استاد نے دو کمسن بچوں سمیت گوداوری ندی میں چھلانگ لگا کر جان دے دی ۔ خودکشی سے قبل واٹس ایپ اسٹیٹس پر ذہنی اذیت کا اظہارناندیڑ، 17 جولائی (ہ س)۔ ناندیڑ ضلع کے بھوکر تعلقہ کے موضع بیمبر کے رہنے والے استاد سنیل نارائن مورے نے اپنے دو کمسن بچوں، 12 سالہ بیٹی سارا اور 8 سالہ بیٹے سمیت، اپنی زندگی کا افسوسناک خاتمہ کر لیا۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ضلع کے تعلیمی حلقوں میں شدید صدمے کا سبب بن گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ مبینہ طور پر انتظامی ہراسانی سے پیدا ہونے والی انتہائی سنگین صورتحال کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔سنیل مورے ضلع پریشد اسکول، پوٹا بدروک، تعلقہ ہمایت نگر میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے تھے۔ جمعرات 17 جولائی کی صبح تقریباً 7 بج کر 50 منٹ پر وہ اپنی وکرانت گاڑی میں دونوں بچوں کے ساتھ مگٹ پل پہنچے اور وہاں سے گوداوری ندی میں چھلانگ لگا دی۔ خودکشی سے قبل سنیل مورے نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر اپنی ذہنی کیفیت اور تکلیف کا اظہار کیا تھا۔ اس اسٹیٹس میں انہوں نے واضح طور پر لکھا تھا کہ شدید ذہنی اذیت اور ناقابل برداشت پریشانی سے تنگ آ کر وہ یہ انتہائی قدم اٹھا رہے ہیں۔ ان کے اس آخری پیغام کے بعد اس واقعہ کو مبینہ انتظامی ہراسانی سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد سنیل مورے اور ان کے دونوں بچوں کی لاشیں گوداوری ندی سے نکال لی گئیں۔ اس دلخراش واقعے نے نہ صرف ناندیڑ ضلع بلکہ تعلیمی حلقوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک استاد کا اپنے معصوم بچوں سمیت موت کو گلے لگانے پر مجبور ہونا تعلیمی نظام اور متعلقہ انتظامی معاملات پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے