
نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س)۔ دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ہنگامہ کرنے کے معاملے میں اتر پردیش کے دو قانون کے طالب علموں کو گرفتار کیا ہے۔ الزام ہے کہ ایک طالب علم نے عدالتی کارروائی میںرخنہ اندازی کرتے ہوئے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا، کاغذات اور پمفلٹ پھینکے اور جب انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تو سیکورٹی اہلکار کے ساتھدھکا-مکی کی۔
نئی دہلی ضلع کے تلک مارگ پولیس اسٹیشن نے مقدمہ درج کرکے دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ عدالت سے دو روزہ پولیس ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد اب پورے واقعہ کی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، یہ واقعہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ کی کورٹ نمبر 13 میں پیش آیا جہاں ایس ایل پی نمبر 31367/2026 کی سماعت ہو رہی تھی۔ اس معاملے میں پربل پرتاپ سنگھ (24) خود درخواست گزار کے طور پر عدالت میں پیش ہوا۔ وہ لکھنو¿ یونیورسٹی میں ایل ایل بی کے تیسرے سال کا طالب علم ہے۔ اس کے ساتھ چندربھان ( 23)بھی موجود تھا، جو اسی یونیورسٹی میں ایل ایل بی کے دوسرے سال کا طالب علم ہے۔ دونوں بالترتیب اٹاوہ اور رائے بریلی کے رہنے والے ہیں۔
تحقیقات سے پتہ چلا کہ سماعت کے دوران پربل پرتاپ سنگھ نے عدالت میں اچانک بدسلوکی اور غیر مہذب زبان استعمال کرنا شروع کردی۔ اس کے بعد اس نے کورٹ روم کے اندر کاغذات اور پرچے پھینکے، جس سے کچھ دیر کے لیے کارروائی میں خلل پڑا۔ عدالت میں نظم ونسق کی صورتحال کو برقرارا رکھنے کے لئے جب سپریم کورٹ کا سیکورٹی عملہ آگے بڑھا تو ملزم نے مبینہ طور پر سیکورٹی گارڈ کے ساتھ دھکا-مکی کی۔ اس کے بعد سیکورٹی عملے کی شکایت کے بعد تلک مارگ تھانے میں بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔
پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تبصروں کے بعد، دونوں ملزمان کا آئی ایچ بی اے ایس میں طبی معائنہ کرایا گیا۔ میڈیکل رپورٹ سے پتا چلا کہ دونوں کو فوری نفسیاتی علاج کی ضرورت نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد