
کاروباری تعاون، اختراع، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے قومی سطح پر مضبوط عزم کا اظہار
نئی دہلی، 13 جولائی(ہ س )۔
ملک میں کاروباری قیادت کو مضبوط بنانے، صنعت و تجارت کے فروغ، اختراع کی حوصلہ افزائی اور کاروباری تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے کے مقصد سے ریفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ کے اشتراک سے ریفاہ نیشنل بزنس کانکلیو 2026 کا شاندار انعقاد کیا۔ یہ ایک روزہ قومی کانکلیو اتوار کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر ایم۔ اے۔ انصاری آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی 18 ریاستوں اور 50 سے زائد کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد صنعت کاروں، تاجروں، کاروباری شخصیات، پیشہ ور افراد، اسٹارٹ اپ بانیوں، صنعتی ماہرین اور نوجوان کاروباریوں نے شرکت کی۔
یہ کانکلیو نہ صرف کاروباری برادری کے لیے ایک منفرد نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ثابت ہوا بلکہ اس نے ملک بھر کے کاروباری افراد کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے، نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے، اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کرنے اور مستقبل کی کاروباری سمت متعین کرنے کا بہترین موقع بھی فراہم کیا۔
افتتاحی اجلاس کا آغاز ڈاکٹر شاد حبیب، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ سوشل ورک، جامعہ ملیہ اسلامیہ، کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد معزز مہمانوں کی گلپوشی اور یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔
شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر (ڈاکٹر) ریحان خان سوری، سربراہ، سینٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مو¿ثر اشتراک کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی تعاون نوجوانوں میں اختراع، کاروباری شعور اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
ریفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین جناب ایس۔ امین الحسن نے کانکلیو کے اغراض و مقاصد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریفاہ کا مقصد ملک بھر کے تاجروں، صنعت کاروں، پیشہ ور افراد اور نوجوان کاروباریوں کو ایک ایسے قومی پلیٹ فارم پر یکجا کرنا ہے جہاں نیٹ ورکنگ، رہنمائی، تجارتی روابط اور باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ ترقی کی راہیں ہموار ہوں۔
اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے امیر جناب سید سعادت اللہ حسینی، شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر اور ایم ایس ایم ای ڈیولپمنٹ اینڈ فیسیلیٹیشن آفس، اوکھلا، نئی دہلی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر آر۔ کے۔ بھارتی بطور مہمانانِ خصوصی شریک ہوئے۔
کانکلیو میں معروف صنعت کاروں اور بین الاقوامی کاروباری ماہرین نے بھی اپنے تجربات شرکائ کے ساتھ شیئر کیے۔ ہمالیہ ویلنیس کمپنی کے صدر ڈاکٹر ایس۔ فاروق نے عالمی معیار کے بھارتی برانڈز کی تعمیر میں قیادت، اخلاقیات اور جدت کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ بارکو، دبئی کے گلوبل ڈسٹری بیوشن ڈائریکٹر ڈاکٹر فیض الرحمن عباسی نے عالمی منڈیوں میں بھارتی کاروبار کے فروغ، بین الاقوامی تقسیم کاری کے نظام اور برآمدی امکانات پر جامع خطاب کیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے سرپرستانہ خطاب میں ریفاہ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام نوجوان نسل میں کاروباری سوچ، خود انحصاری اور اختراع کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کانکلیو کی نمایاں سرگرمی انڈسٹری زون انٹروڈکشن تھی، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد نے اپنے اداروں اور مصنوعات کا تعارف پیش کیا اور شعبہ وار اشتراک و تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سیشن نے مختلف ریاستوں کے کاروباری افراد کے درمیان نئی شراکت داریوں اور تجارتی روابط کی راہیں ہموار کیں۔
اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے جنرل سیکریٹری جناب مرزا افضل بیگ نے کہا کہ ریفاہ ملک بھر کے تاجروں، صنعت کاروں اور کاروباری افراد کا ایک مضبوط قومی نیٹ ورک قائم کرنے اور جامع معاشی ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔
ریفاہ دہلی کے صدر سلطان صلاح الدین نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے تمام مہمانانِ خصوصی، مقررین، شریک اداروں، اسپانسرز، رضاکاروں اور شرکائ کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے یہ کانکلیو تاریخی کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
کانکلیو کے کنوینر اور ریفاہ تمل ناڈو چیپٹر کے ذمہ دار جناب سید یونس نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ ریفاہ کا نصب العین ملک کے تاجروں، صنعت کاروں، پیشہ ور افراد، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور صنعتی قائدین کو ایک مضبوط قومی پلیٹ فارم پر متحد کرکے ہندوستان کی سب سے فعال اور مو¿ثر کاروباری برادری تشکیل دینا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ