
نئی دہلی،13جولائی (ہ س )۔
کہا جاتا ہے کہ جہاں چاہ، وہاں راہ اور اس مقولے کو حقیقت کا روپ دیا ہے شاہین باغ، کے 28 سالہ محمد قمر علی نے، جن کی محنت، عزم نے نہ صرف ان کی بلکہ پورے خاندان کی زندگی بدل دی۔
اتر پردیش کے ضلع مراد آباد سے تعلق رکھنے والے محمد قمر علی کا خاندان بہتر مستقبل کی تلاش میں دہلی منتقل ہوا، مگر معاشی مشکلات نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ عمر رسیدہ والد بیماری اور بڑھاپے کے باعث کام کرنے سے قاصر تھے، گھر کرائے کا تھا اور تنگدستی کے سبب ان کی چھوٹی بہن کو تعلیم بھی ادھوری چھوڑنی پڑی۔
گھر کے بڑے بیٹے ہونے کی حیثیت سے محمد قمر علی نے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائی اور بہتر روزگار کی تلاش جاری رکھی۔
فاونڈیشن کے روزگار فراہمی شعبے کے انچارج نور محمد نے بتایا کہ اسی دوران انہوں نے ہیومن ویلفیئر فاو¿نڈیشن کے زیرِ اہتمام قائم انوویشن اینڈ اسکل ٹریننگ سینٹر (ISTC) میں داخلہ لیا، جہاں انہیں نفسیاتی استعداد (Psychometric Assessment)، کیریئر کونسلنگ، شخصیت سازی، رویہ جاتی مہارتوں اور پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ روزگار کی فراہمی کے لیے خصوصی رہنمائی دی گئی۔ اس تربیت نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارا، اعتماد میں اضافہ کیا اور انہیں بین الاقوامی ملازمت کے لیے تیار کیا۔
دس روزہ رہائشی تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد محمد قمر علی کو فوڈ سٹی، بحرین میں فوڈ سروس ورکر کی حیثیت سے باعزت ملازمت حاصل ہوئی، جہاں وہ مناسب تنخواہ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آج محمد قمر علی اپنے خاندان کی کفالت باوقار انداز میں کر رہے ہیں۔ وہ اپنے والد کے علاج کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں، گھریلو ضروریات پوری کر رہے ہیں اور اپنے بہن بھائیوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھنے میں معاون بنے ہوئے ہیں۔
اپنی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے محمد قمر علی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ بروقت رہنمائی، تربیت اور محنت نے انہیں زندگی کی درست سمت عطا کی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ مزید محنت کے ساتھ اپنے خاندان کے روشن مستقبل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
محمد قمر علی کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نوجوانوں کو صحیح رہنمائی، معیاری تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کی ترقی میں بھی مو¿ثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais