
کابل، 29 جون (ہ س ) : افغانستان کی طالبان حکومت نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی طرف سے اتوار کی رات پکتیا اور کنڑ صوبوں میں کیے گئے فضائی حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ پاکستانی فضائیہ نے 28 جون کی رات کو افغان صوبوں پکتیا اور کنڑ میں فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں مجاہد نے کہا کہ پکتیکا کے گیان ضلع، پکتیا کے ضلع سمکانی اور کنڑ کے ضلع مانوگئی میں شہری آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’بزدلانہ جارحیت‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 8 جون کو پاک فضائیہ نے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں شہریوں کے گھروں پر بمباری کی تھی جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 11 بچے بھی شامل تھے اور 14 خواتین اور بچے زخمی ہوئے تھے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ایک منصوبہ بند زمینی آپریشن کیا، جس کے بعد سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی۔
اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پار سیکیورٹی آپریشنز اور فضائی حملوں کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد