
نوئیڈا، 25 جون (ہ س)۔ اترپردیش کے نوئیڈا میں تھانہ کاسنا میں راجکیہ آیور وگیان سنستھان (جی آئی ایم ایس - جمس) گریٹر نوئیڈا کے ڈائریکٹر نے کانٹریکٹ پر کام کرنے والے نامعلوم ملازمین کے خلاف آج مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا ہے۔
ان کا الزام ہے کہ یہ لوگ 15 جون سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہیں۔ جس سے اسپتال کی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔ دھرنا مظاہرہ ختم کروانے کے لیے جمس اور ضلع انتظامیہ کے حکام کی جانب سے مسلسل بات چیت کی جا رہی ہے، لیکن یہ لوگ نہیں مان رہے ہیں۔ یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ادارہ بغیر کسی امتحان کے انعقاد کے ان کی خدمات کو مستقل کر دے۔ ادارے کی جانب سے تمام ملازمین کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ غیر تدریسی خدمات کے منظور شدہ عہدوں کے تناظر میں فی الحال زیر ملازمت ملازمین کی خدمات کو برقرار رکھتے ہوئے، بچے ہوئے اضافی عہدوں سے بھی کم عہدوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے، جس سے آوٹ سورسنگ کے ذریعے کام کرنے والے ملازمین کی موجودہ سروس پر کوئی بھی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
ان کے مطابق ضلع و پولیس انتظامیہ اور ادارے کی جانب سے دھرنا مظاہرہ کرنے والے ملازمین سے 15-10 بار بات چیت کی گئی، ان کے تمام مطالبوں کو مثبت طریقے سے یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ضلع مجسٹریٹ نے بھی سب کو بلا کر ان سے بات چیت کی، لیکن ملازمین اپنی خدمات کو مستقل کرنے کے مطالبے پر بضد ہیں۔ فی الحال ان کی جانب سے او پی ڈی کے مین گیٹ پر واقع مریض رجسٹریشن ایریا میں دھرنا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے ہنگامہ کرنے سے اسپتال میں داخل مریضوں کو پریشانی ہو رہی ہے اور سرکاری کام میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ دھرنا مظاہرے کے باعث مریضوں کے ذہنوں میں ایسا وہم پیدا ہو گیا ہے کہ اسپتال بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مینجمنٹ کی جانب سے ملازمین کو رجسٹریشن ایریا سے ہٹ کر کسی دوسرے مقام پر دھرنا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو وہ مشتعل ہو گئے اور ادارے کے ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا۔ مشتعل ملازمین نے نازیبا زبان کا استعمال کرتے ہوئے گالی گلوج کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ اس سے آئی سی یو وارڈ میں سنگین حالت میں داخل مریضوں کا علاج بھی متاثر ہو رہا ہے۔ تھانہ کاسنا کے انچارج انسپکٹر دھرمیندر کمار شکلا نے بتایا کہ جمس کے ڈائریکٹر کی شکایت پر واقعے کی رپورٹ درج کر کے پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بدھ کی دیر رات سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں جمس کے کانٹریکٹ ملازمین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ دھرنے پر بیٹھے ملازمین کا الزام ہے کہ پولیس نے جم کر لاٹھیاں چلائیں جس میں 70 ملازمین زخمی ہو گئے ہیں۔ دو آئی سی یو میں داخل ہیں۔ پولیس نے ملازمین کے ساتھ مار پیٹ کی اور انہیں بس میں بھر کر پولیس لائن لے جایا گیا۔ 15 جون سے جمس کے تقریباً 700 آؤٹ سورس ملازمین ہڑتال پر ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن