
اشوک نگر، 25 جون (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے اشوک نگر سے جمعرات کی علی الصبح ایک خوفناک خبر سامنے آئی ہے۔ شہر سے محض 10 کلومیٹر دور سڑک کنارے کھڑی ایک مشکوک کار کے اندر ایک نوجوان اور دوشیزہ کی لہولہان لاشیں ملنے سے سنسنی پھیل گئی ہے۔ جائے وقوعہ پر ملے ہتھیاروں اور چوٹ کے نشانات نے اس پورے معاملے کو بے حد پیچیدہ اور پراسرار بنا دیا ہے۔
معلومات کے مطابق، دیہات پولیس کو صبح تقریباً 3 بجے اطلاع ملی تھی کہ اہم شاہراہ سے دور ایک مشکوک کار کافی دیر سے سڑک کنارے کھڑی ہے۔ جب پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور کار کے اندر جھانکا، تو پولیس اہلکاروں کے ہوش اڑ گئے۔ کار کے اندر خون آلود دو لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔
پولیس کے مطابق، دوشیزہ کے گلے اور پیٹھ پر کسی دھار دار ہتھیار سے پے در پے وار کیے گئے تھے، جس سے اس کا کافی خون بہہ چکا تھا۔ وہیں، نوجوان کے ماتھے پر سیدھے گولی لگنے کا گہرا نشان تھا۔
پولیس نے جب لاشوں کی شناخت کی تو مہلوکین کی پہچان اشوک نگر کے ہی رہنے والے نوجوان اور دوشیزہ کے طور پر ہوئی۔ متوفی نوجوان ریتک سونی (26 برس) ولد راکیش سونی اندور میں اپنا کار پارلر کا شوروم چلاتا تھا۔ متوفیہ دوشیزہ مسکان جین (24 برس) دختر ویویک جین (اکھائی والے) ایک نجی کمپنی میں ملازم تھی۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریتک اور مسکان گزشتہ 3 سالوں سے ایک دوسرے کے بے حد قریب تھے اور ان کے درمیان گہرے معاشقانہ تعلقات تھے۔
اس دوہرے قتل یا خودکشی کے قدم کی ہسٹری تب اور الجھ گئی جب پولیس نے کار کی تلاشی لی۔ پولیس کو کار کے اندر سے ایک پستول اور ایک کلہاڑی جیسا دھار دار ہتھیار برآمد ہوا ہے۔ ایک ہی گاڑی میں گولی مارنے اور گلا ریتنے والے دونوں ہتھیاروں کا ملنا کئی سنگین سوال کھڑے کر رہا ہے۔
دیہات پولیس نے دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج کر معاملے کی باریکی سے جانچ شروع کر دی ہے۔ فورینسک ٹیم بھی موقع سے شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ کال ڈیٹیلز اور سی سی ٹی وی فٹیج کھنگالے جا رہے ہیں۔ دیہات تھانہ پولیس انچارج بھونیش شرما کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے اور ابتدائی تکنیکی جانچ کے بعد ہی اس سنسنی خیز معاملے کی اصل سچائی سامنے آ سکے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن