
کولکاتا، 14 جون (ہ س)۔ مغربی بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس کو ایک اور بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ سات بار رکنِ اسمبلی رہنے والے اور ریاست کے سابق وزیر مانس بھوئیاں نے ترنمول کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ سابق وزیر اعلیٰ اور پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کو بھیجتے ہوئے کہا کہ جن سیاسی اقدار اور اصولوں کی بنیاد پر انہوں نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، ترنمول کانگریس اب ان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
مانس بھوئیاں نے اپنے استعفیٰ میں کسی بھی شخصی رہنما پر الزام عائد نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ فیصلہ نظریاتی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار نہیں کر رہے اور عوامی زندگی میں فعال کردار ادا کرتے رہیں گے۔ تاہم انہوں نے اپنے آئندہ سیاسی لائحۂ عمل کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا۔
مانس بھوئیاں مغربی بنگال کے سابق متحدہ میدنی پور (جے این) علاقے کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ کانگریس میں رہتے ہوئے وہ ریاستی صدر اور اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف جیسے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ سال 2016 میں انہوں نے کانگریس چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔
ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کے بعد مانس بھوئیاں نے اپنے علاقے میں پارٹی کی تنظیم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہیں ریاستی کابینہ میں بھی شامل کیا گیا اور وہ پارٹی کے نمایاں تنظیمی چہروں میں شمار کیے جانے لگے۔
ان کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھاری شکست کے بعد ترنمول کانگریس مسلسل اندرونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں اور عوامی نمائندوں کی ناراضی کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث تنظیمی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مانس بھوئیاں جیسے سینئر رہنما کا پارٹی چھوڑ دینا ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد