حکومت کا مقصد کھیتی کو منافع بخش بنانا اور کسانوں کی آمدنی میں مسلسل اضافہ کرنا ہے: شیوراج سنگھ
مرکزی وزیر زراعت نے ودیشا ضلع کے گرام بیرکھیڑی جیتو میں زرعی سائنس سینٹر کا بھومی پوجن کیا ودیشا، 14 جون (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے زراعت و کسان فلاح و بہبود شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ کرشی وگیان کیندر (زرعی سائنس سینٹر) کسانوں اور سائنسدانوں کے درم
ودیشا ضلع کے گرام بیرکھیڑی جیتو میں زرعی سائنس سینٹر کے بھومی پوجن پروگرام میں شامل مہمانان


مرکزی وزیر زراعت نے ودیشا ضلع کے گرام بیرکھیڑی جیتو میں زرعی سائنس سینٹر کا بھومی پوجن کیا

ودیشا، 14 جون (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے زراعت و کسان فلاح و بہبود شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ کرشی وگیان کیندر (زرعی سائنس سینٹر) کسانوں اور سائنسدانوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں۔ یہاں کسانوں کو جدید کھیتی، بہتر بیج، نئی زرعی تکنیکوں، فصلوں کے تحفظ، نامیاتی کھیتی اور زراعت پر مبنی صنعتوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کھیتی کو منافع بخش بنانا اور کسانوں کی آمدنی میں مسلسل اضافہ کرنا ہے۔

مرکزی وزیر زراعت چوہان اتوار کے روز مدھیہ پردیش کے ودیشا ضلع کے گرام بیرکھیڑی جیتو میں کرشی وگیان کیندر (زرعی سائنس سینٹر) کے بھومی پوجن پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے ضابطے کے مطابق پوجا ارچنا کر کے اس مرکز کی تعمیراتی کام کا آغاز کیا۔ اس موقع پر ریاست کے وزیر زراعت ایدل سنگھ کنشانہ، وزیر محصولات کرن سنگھ ورما، دیگر عوامی نمائندے، حکام اور بڑی تعداد میں کسانوں کے علاوہ دیگر لوگ موجود تھے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ کرشی وگیان کیندر کے قائم ہونے سے ودیشا ضلع کے کسانوں کو مقامی سطح پر سائنسی رہنمائی حاصل ہوگی۔ اس سے نئی تکنیکوں کا تیزی سے پھیلاؤ ہوگا اور کسان جدید زرعی طریقوں کو اپنا کر پیداوار اور پیداوری صلاحیت کو بڑھا سکیں گے۔ انہوں نے کسانوں سے کھیتی میں نئی ایجادات کو اپنانے اور سائنسی مشوروں کے مطابق کام کرنے کی اپیل کی۔

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ یہ پروگرام بھیڑ اکٹھا کرنے یا تقریر کرنے کے لیے نہیں، بلکہ کسانوں کی ٹریننگ کے لیے ہے۔ یہاں آئے کسان کسی بس یا گاڑی میں بھر کر نہیں لائے گئے، جو سیکھنا چاہتا ہے وہ اپنے وسائل سے آیا ہے، اس لیے اسٹیج کی رسمی کارروائیوں کی جگہ براہِ راست کلاس ہوگی۔ یہاں بیٹھے ہر کسان کو طالب علم مانا جائے، جن کے لیے سائنسدان اپنی بات محدود الفاظ میں رکھیں گے اور پھر براہِ راست کھیت میں لے جا کر مشینوں اور نئی تکنیک کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہاں بننے والا یہ کرشی وگیان کیندر 49 ایکڑ زمین پر ملک کا ماڈل ہوگا، جہاں اسی خریف کے سیزن سے نمائشی پلاٹوں پر جدید طریقے سے کھیتی شروع ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلڈنگ کا انتظار کیے بغیر کھیت پر کام فوراً شروع ہوگا، کسان کو آنکھوں سے دکھا کر سکھایا جائے گا، صرف سنا کر نہیں۔ اس کے وی کے سے مرکزی زرعی اداروں کے نیٹ ورک کی ریسرچ براہِ راست ودیشا کے علاقے کے کسانوں تک موبائل، ڈیمو اور ٹریننگ کے ذریعے پہنچائی جائے گی۔

شیوراج سنگھ نے ملک گیر ’کھیت بچاو مہم‘ کی توسیع کرتے ہوئے ودیشا میں کسانوں سے زمین کو بچانے کی جذباتی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مٹی کی جانچ کیے بغیر اندھا دھند کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات ڈالنے سے زمین کی زرخیزی ختم ہو جائے گی، اس لیے ہر کسان کے کھیت کی مٹی کی جانچ اور ’سوائل ہیلتھ کارڈ‘ مہم تیز کی جائے گی۔ کھیتی میں متوازن کھاد کے ساتھ ساتھ قدرتی اور نامیاتی کھیتی کو بھی فروغ دیا جائے گا، جہاں کسان کم از کم آدھا ایکڑ میں سائنسی طریقے سے قدرتی کھیتی کی کوشش کریں تاکہ پیداوار گھٹے بغیر مٹی کی صحت بہتر ہو۔

مرکزی وزیر چوہان نے اعلان کیا کہ ودیشا کے اس ماڈل کے وی کے میں ’ایگری کلینک‘ یعنی فصل کا اسپتال بنایا جائے گا، جہاں کسان پودا، پتا یا مٹی کا نمونہ لے کر آئیں گے اور سائنسدان بیماری کی پہچان کر کے فوراً علاج بتائیں گے۔ ساتھ ہی، 155261 جیسے بھارت وستار-کسان سارتھی نمبر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کسانوں کو فون پر بھی فوراً مشورہ دیا جائے گا، پتے پیلے پڑنے سے لے کر سنڈی لگنے تک ہر مسئلے پر۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک موبائل ایپ کے ذریعے کھیت میں گھومتے گھومتے ہی پتہ چل سکے گا کہ مٹی میں کون کون سے غذائی اجزا ہیں اور کتنی ڈی اے پی اور یوریا کی ضرورت ہے، جس کا لائیو مظاہرہ وہ خود کھیت میں جا کر کریں گے۔

انہوں نے کسانوں کی سب سے بڑی چنتا یعنی جعلی کھاد، کیڑے مار ادویات اور بیج کو لے کر صاف کہا کہ جو بھی کسانوں کے ساتھ دھوکہ کرے گا، اسے کسی بھی قیمت پر چھوڑا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کسانوں سے پکا بل لینے، کیو آر کوڈ سے اصلیت کی جانچ کرنے اور نقلی مال کی شکایت فوراً کرنے کی اپیل کی، ساتھ ہی بھروسہ دلایا کہ حکومت سخت کارروائی کرے گی۔

شیوراج سنگھ چوہان نے چھوٹے اور غریب کسانوں کے لیے کسٹم ہائرنگ سینٹر اور مشین بینک کا اعلان کیا، جہاں لیزر لیولر، ڈائریکٹ سیڈڈ رائس مشین، ڈرپ-اسپرنکلر جیسی جدید مشینیں کرایے پر دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ ہر مشین خرید سکے، اس لیے کے وی کے میں مشینیں رکھی جائیں گی- کسان ضرورت کے مطابق معمولی کرایہ دے کر استعمال کر سکے گا اور واپس جمع کر دے گا۔

مرکزی وزیر نے ٹماٹر، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف خام مال بیچ کر کسان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اس لیے یہاں ویلیو ایڈیشن اور فوڈ پروسیسنگ کی ٹریننگ دی جائے گی۔ کے وی کے کے ذریعے ٹماٹر، سبزی، پھل، اناج وغیرہ سے تیار شدہ مصنوعات بنانے کی تکنیک، پیکیجنگ اور مارکیٹ سے جڑنے تک کی راہ دکھا کر نوجوانوں کو زراعت پر مبنی اسٹارٹ اپ کی طرف راغب کیا جائے گا۔

انہوں نے دالوں اور تلہن کی پیداوار بڑھانے کے لیے دالوں کی خودمختاری کے مشن کو تیز کرنے کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ چنا، ارہر، مسور، اڑد جیسی دالوں کے ساتھ ساتھ تل سمیت تلہن کی کھیتی بڑھانے کے لیے کسانوں کو اچھے بیج مفت نمائش والے پلاٹوں کے لیے دیے جائیں گے اور کلسٹر پر مبنی کھیتی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے بھروسہ دلایا کہ کسان جتنی دالیں پیدا کرے گا، اسے کم از کم امدادی قیمت پر خریدا جائے گا اور جہاں پیداوار زیادہ ہوگی، وہاں دال مل لگانے کے لیے 25 لاکھ روپے تک کی سبسڈی دی جائے گی۔

ریاست کے وزیر زراعت ایدل سنگھ کنشانہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں ریاستی حکومت کسانوں کی آمدنی دگنی کرنے کے ہدف کو لے کر مسلسل کام کر رہی ہے۔ کسانوں کی اقتصادی حالت کو مضبوط بنانے اور کھیتی کو زیادہ منافع بخش بنانے کے لیے مرکز اور ریاستی حکومتیں مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے ذریعے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں۔ اس سمت میں مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان بھی پوری وابستگی کے ساتھ کسانوں کے مفاد میں کام کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande