سونم وانگچک نے ایل جی کے دعوؤں کو مسترد کیا
لداخ, 28 مئی (ہ س)۔ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ وانگچک نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) سے متعلق اپنے مؤقف پر نظرثانی کی بات کہی ہے۔ وانگچک نے واضح کیا کہ
Wangchuk


لداخ, 28 مئی (ہ س)۔ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ وانگچک نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) سے متعلق اپنے مؤقف پر نظرثانی کی بات کہی ہے۔ وانگچک نے واضح کیا کہ وہ آج بھی اس آن لائن تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور خود کو اعزازی کاکروچ سمجھتے ہیں۔

وانگچک نے جمعرات کو کہا کہ ایل جی کے ساتھ ان کی ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوئی تھی، لیکن بعد میں جاری کیے گئے سوشل میڈیا بیان میں ایسا تاثر دیا گیا جیسے انہیں تنبیہ کی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران لداخ، سیاحت، عوامی مسائل اور ممکنہ تعاون پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ انہوں نے لداخ کا منی پور سے موازنہ کرنے کو غلط فیصلہ قرار دیا تھا۔ وانگچک کے مطابق انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ موجودہ حالات میں اس مثال سے گریز کیا جا سکتا تھا، تاہم وہ آج بھی اپنے بیان پر قائم ہیں۔سونم وانگچک نے کہا کہ ایل جی نے سی جے پی پر بیرونی فنڈنگ اور غیر ملکی اثر و رسوخ کے الزامات لگائے، لیکن انہوں نے ان باتوں سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے احتجاجی یا تخلیقی عوامی اظہار سے خوفزدہ ہونے کے بجائے عوامی خدشات کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔انہوں نے سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے سے مطالبہ کیا کہ وہ تنظیم کے سوشل میڈیا اعداد و شمار عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ بیرونی فنڈنگ سے متعلق الزامات کی حقیقت واضح ہو سکے۔دوسری جانب، لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ لداخ میں مثبت ماحول برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ احتجاجی سرگرمیوں سے سیاحت اور معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande