یوپی مدرسہ بورڈ کے نتائج کا اعلان، 88.26% طلباء پاس
لکھنو¿، 23 مئی (ہ س)۔ یوگی حکومت اتر پردیش میں مدرسہ کی معیاری تعلیم کو جدید، شفاف اور مربوط کرنے کی سمت میں مسلسل مو¿ثر قدم اٹھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں، ہفتہ کو، اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل، لکھنو¿ کے ذریعہ منعقدہ 2026 منشی/مولوی (سیک
یوپی مدرسہ بورڈ کے نتائج کا اعلان، 88.26% طلباء پاس


لکھنو¿، 23 مئی (ہ س)۔

یوگی حکومت اتر پردیش میں مدرسہ کی معیاری تعلیم کو جدید، شفاف اور مربوط کرنے کی سمت میں مسلسل مو¿ثر قدم اٹھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں، ہفتہ کو، اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل، لکھنو¿ کے ذریعہ منعقدہ 2026 منشی/مولوی (سیکنڈری) اورعالم(سینئر سیکنڈری) بورڈ امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ اس سال مدرسہ بورڈ کے امتحان کا مجموعی نتیجہ 88.26 فیصد رہا۔ کل 55,788 طلباء کامیاب قرار پائے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ طالبات نے لڑکوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مجموعی طور پر 29,229 طالبات 94.30 فیصد کامیابی کے ساتھ پاس ہوئیں، جب کہ 26,559 طالب علم 85.13 فیصد کامیابی کے ساتھ پاس ہوئے۔

سیکنڈری امتحان میں 41,000 طلباء نے کامیابی حاصل کی

سیکنڈری امتحان، یا منشی-مولوی امتحان کے لیے کل 62,232 امیدوار رجسٹرڈ تھے۔ ان میں سے 47,036 طلباء نے امتحان میں شرکت کی جن میں سے 41,426 پاس ہوئے۔ مجموعی نتیجہ 88.07 فیصد رہا۔ سیکنڈری امتحان میں بھی لڑکیوں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 21,407 لڑکیاں 91.46 فیصد کامیابی کے ساتھ پاس ہوئیں جبکہ 20,019 لڑکے 84.72 فیصد نمبروں کے ساتھ کامیاب قرار پائے۔

سینئر سیکنڈری امتحان میں لڑکیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا

سینئر سیکنڈری امتحان، یا عالم امتحان کے لیے کل 18,701 طلبہ کو رجسٹر کیا گیا تھا۔ ان میں سے 16,175 طلباءنے امتحان دیا اور 14,362 کامیاب ہوئے۔ اس سطح پر کامیابی کی مجموعی شرح 88.79 فیصد تھی۔ سینئر سیکنڈری امتحان میں 7,822 طالبات کامیاب ہوئیں جن کا تناسب 90.88 فیصد رہا۔ 6,540 طلباء پاس ہوئے جس کا نتیجہ 86.42 فیصد رہا۔

سرکاری ویب سائٹ پر نتائج چیک کریں

طلباء اپنے نتائج مدرسہ بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ https://madarsaboard.upsdc.gov.in پر دیکھ سکتے ہیں۔ مدرسہ بورڈ کے امتحان 2026 کے لیے کل 80,933 طلبہ رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 63,211 نے شرکت کی۔ امتحانی عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام امتحانی مراکز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے تھے جن کی براہ راست مدرسہ بورڈ ہیڈ کوا رٹر سے نگرانی کی جاتی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande