
نئی دہلی، 23 مئی(ہ س)۔اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی جانب سے پروفیسر محمد شاہد حسین کے انتقال پر ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر ایمریٹس دہلی یونیورسٹی ڈاکٹر عبدالحق نے کہا کہ پروفیسر محمد شاہد حسین کا انتقال ہمارے لیے بڑے رنج و غم کے ساتھ ایک ادبی حادثہ ہے۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ اردو کے ڈرامائی ادب میں انہوں نے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ابلاغ و ترسیل پر قابلِ قدر کتابیں لکھ کر ادبی تنقید و تخلیق کے نئے تقاضوں کی تکمیل کی۔ وہ ایک ہر دل عزیز استاد تھے اور حسن سلوک میں اپنا امتیاز رکھتے تھے۔ پروفیسر محمد شاہد حسین گورکھپور کے ایک باوقار زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ اردو تعلیم اور تدریس کی طرف ان کی توجہ ہمارے لیے ایک مثال تھی۔ مسکراتے ہوئے ملنا اور خوش دلی سے پیش آنا ان کا فطری شعار تھا۔ انہوں نے پوری زندگی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے لیے وقف کردی تھی۔ پروفیسر محمد حسن اور پروفیسر محمود الٰہی جیسے محترم اساتذہ کی شاگردی نے ان کی صلاحیتوں کو روشن تر کیا، جس کا وہ ہمیشہ پاس احترام کرتے رہے۔ وہ 9 نومبر ’عالمی یوم اردو‘ تحریک کی تائید اور سرپرستی بھی کرتے رہے۔
تعزیت کرنے والوں میں اردو ڈیولپمنٹ ا?رگنائزیشن کے قومی صدر ڈاکٹر سیّد احمد خاں ، دہلی کے صوبائی صدر ڈاکٹر مفتی جاوید انور، جنرل سکریٹری ڈاکٹر نجم السحر نجمی، تحسین علی اساروی، کلیم تیاگی مظفرنگری، صحافی گلفام اور محمد عمران قنوجی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس اہم نشست میں معروف استاد ڈاکٹر فیروز دہلوی اور بچوں کے ماہنامہ گل بوٹے کے مدیر فاروق سیّد کی خدمات کا اعتراف کیا گیا اور ان کے لیے بھی تعزیت کی گئی۔ ا?خر میں اردو ڈیولپمنٹ ا?رگنائزیشن کی تعزیتی نشست میں مذکورہ تینوں مرحومین کے لیے دلی رنج و غم کے ساتھ دعائے مغفرت کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan