
گوہاٹی، 23 مئی (ہ س)۔ رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیے گئے آسام سول سروس (اے سی ایس) افسر لاچیت کمار داس کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ویجیلنس اینڈ اینٹی کرپشن نے چھاپہ مار کر ان کی سالی کے فلیٹ سے ایک کروڑ 17لاکھ 30ہزار روپے کی نقدی برآمد کی ہے۔ بھاری مقدار میں سونے کے زیورات بھی ضبط کئے گئے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق ،گزشتہ روزتلاشی مہم کے دوران افسر کے گھر سے 50 لاکھ روپے سے زائد نقدی اور 500 گرام سے زائد سونے کے زیورات برآمد ہوئے تھے۔ تفتیشی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ یہ دولت ان کی آمدنی سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ضبط کی گئی نقدی اور زیورات کے ذرائع کے تعلق سے لیے اب تفصیلی مالی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف لینڈ ریکارڈ کے ایک اضافی لینڈ ریکارڈ افسر لاچیت کمار داس کو ویجیلنس ٹیم نے جمعرات کو 45,000 روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ شکایت کے بعد اہلکاروں نے جال بچھا کر کارروائی کی۔
اس کی گرفتاری کے بعد ویجیلنس ڈیپارٹمنٹ نے اس سے جڑے کئی مقامات پر تلاشی لی۔ چھاپے کے دوران نقدی، زیورات اور قیمتی دستاویزات اور مالیاتی ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا۔ تفتیش کار اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ضبط کیے گئے اثاثے غیر قانونی طریقوں سے حاصل کیے گئے یا ان کا تعلق بدعنوانی کے کسی بڑے نیٹ ورک سے ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر سرکاری محکموں میں بدعنوانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ویجیلنس ڈیپارٹمنٹ نے اشارہ دیا ہے کہ تحقیقات کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
رشوت ستانی کا کیس گہرا ہو جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد