یوگی آدتیہ ناتھ کے فرضی خط کیس میں ملزم کا جرم ثابت ،سزا 20 اپریل کو سنائی جائے گی
نئی دہلی، 7 اپریل (ہ س)۔ دہلی کی راوز ایونیو کورٹ نے ایک شخص کو قصوروار ٹھہرایا ہے کہ اس نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی طرف سے 2019 کے اتر پردیش اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے بی جے پی کے ٹکٹ کی سفارش کرنے کے لیے جعلی خط کا استعمال کیا۔ ای
سزا


نئی دہلی، 7 اپریل (ہ س)۔ دہلی کی راوز ایونیو کورٹ نے ایک شخص کو قصوروار ٹھہرایا ہے کہ اس نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی طرف سے 2019 کے اتر پردیش اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے بی جے پی کے ٹکٹ کی سفارش کرنے کے لیے جعلی خط کا استعمال کیا۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ جیوتی مہیشوری نے ملزم شیواجی یادو کو مجرم قرار دیا۔ عدالت سزا پر عدالتی فیصلہ 20 اپریل کو سنائے گی۔

دراصل، 2019 میں شیواجی یادو نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی طرف سے وزیر اعظم کے دفتر کو ایک فرضی خط بھیجا تھا، جس میں لکھنو¿ کینٹ اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے بی جے پی کے ٹکٹ کی درخواست کی گئی تھی۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ یہ خط یوگی آدتیہ ناتھ نے وزیر اعظم کے دفتر کو نہیں بھیجا تھا۔ سی بی آئی نے پایا کہ اس خط پر نہ تو وزیراعلیٰ کے حقیقی دستخط تھے اور نہ ہی اسے مناسب طریقہ کار کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔

سی بی آئی کے مطابق اس جعلی خط پر تاریخ، ڈسپیچ نمبر اور لفافے کی تفصیلات سبھی پر ملزم کے دستخط تھے۔ فرانزک شواہد اور گواہوں کے بیانات نے فراڈ کی تصدیق کردی۔ لفافے اور خط پر درج موبائل نمبر ملزمان کے تھے۔ ان موبائل نمبروں کے لیے لوکیشن ڈیٹا نکالا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بدلا پور، جونپور میں واقع ہیں۔ یہ خط بدلاپور سے ہی اسپیڈ پوسٹ کے ذریعے وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجا گیا تھا۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر نے لفافے پر فراہم کردہ ڈسپیچ نمبر کا استعمال کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو ایک خط جاری کیا تھا۔ اسی ڈسپیچ نمبر کا استعمال کرتے ہوئے ملزم نے جعلی خط بنایا تاکہ اسے اصلی ظاہر کیا جا سکے۔ عدالت نے ملزم کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ اسے ایک مقدمے میں جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کی کوشش آئینی عہدوں پر فائز افراد کی جانب سے عہدے کا غلط استعمال ہے۔ عدالت نے شیواجی یادو کو تعزیرات ہند کی دفعہ 465 اور 471 کے تحت مجرم قرار دیا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande