
بھوپال، 05 اپریل (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کی مدھیہ اسمبلی نشست پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کے صدر کشن سوریہ ونشی نے اتوار کو شاہ پورہ کے وارڈ 51 میں ترقیاتی کاموں کے ایک پروگرام کے دوران بڑا سیاسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ اسمبلی کا اگلا نمائندہ وہی ہونا چاہیے، جسے قومی گیت ’وندے ماترم‘ سے پرہیز نہ ہو۔
دراصل وارڈ-51 (شاہ پورہ) میں مقامی کونسلر اسنیہہ لتا بھگوت رگھوونشی کی کوششوں سے کئی ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پر کشن سوریہ ونشی کے ساتھ تنظیمی انچارج جسونت سنگھ ہاڑا اور وکاس ویرانی موجود تھے۔ اس دوران علاقے میں جدید ترین پارک اور سی سی روڈ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا، جس سے شاہ پورہ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوطی ملنے کی امید ہے۔
جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سوریہ ونشی نے موجودہ رکن اسمبلی عارف مسعود پر تیکھا حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لیڈر انتخاب کے وقت مذہبی عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن انتخاب جیتنے کے بعد ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ووٹ کے وقت تلک، آرتی اور چنری کا سہارا لیا جاتا ہے، لیکن رکن اسمبلی بنتے ہی ان کی وفاداری بدل جاتی ہے اور وہ ملک کی آن بان شان ’وندے ماترم‘ گانے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔“ کارپوریشن صدر سوریہ ونشی نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگلی بار ایسے نمائندے کا انتخاب کیا جائے، جو قوم پرستی کے نظریے کو سب سے اوپر رکھے اور عوامی طور پر ’وندے ماترم‘ گانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔
پروگرام میں جسونت سنگھ ہاڑا نے کونسلر کے ذریعے کیے جا رہے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ترقی اور ثقافتی اقدار کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے پرعزم ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن