
تل ابیب ،30اپریل (ہ س )۔
اسرائیلی فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحت سفر کرنے والی امدادی کشتیوں کو بحیرہ¿ روم کے بین الاقوامی پانیوں میں روکنے کے لیے کارروائی کی ہے۔
چھاپے میں ڈرونز، کمیونیکیشن جامنگ ٹیکنالوجی اور مسلح اہلکاروں کا استعمال کیا گیا ہے، منتظمین اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس کارروائی کے دوران امدادی بیڑے کو گھیرے میں لے لیا۔
فلوٹیلا مشن کے مطابق اسرائیلی تیز رفتار فوجی کشتیوں نے قریب آ کر خود کو اسرائیل کے طور پر متعارف کرایا، لیزرز اور نیم خودکار ہتھیاروں کا نشانہ بنایا اور شرکاء کو کشتیوں کے اگلے حصے میں آ کر ہاتھ اوپر کرنے اور گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے احکامات دیے۔
فلوٹیلا کے سوشل میڈیا بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی کشتیوں نے بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی طور پر محاصرہ کیا اور اغواء و تشدد کی دھمکیاں دیں، جبکہ 11 کشتیوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق 58 میں سے 7 کشتیوں کو یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب قبضے میں لے لیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا ہے کہ فلوٹیلا کو ہمارے علاقے تک پہنچنے سے پہلے روک دیا گیا اور فوج پ±رعزم انداز میں کارروائی کر رہی ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے ترجمان گ±ر تسبر نے اس کارروائی کو بین الاقوامی پانیوں میں غیر مسلح شہری کشتیوں پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلوٹیلا میں موجود کارکن طارق رو¿ف کے مطابق بڑے اسرائیلی جنگی جہازوں سے چھوٹی فوجی کشتیاں اتاری گئیں جنہوں نے بیڑے کو گھیر لیا، جبکہ ڈرونز مسلسل نگرانی کرتے ہوئے روشنی ڈال رہے تھے اور ریڈیو کے ذریعے پیغامات دیے جا رہے تھے کہ فلوٹیلا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ریڈیو چینلز پر موسیقی چلا کر رابطہ نظام کو جام کیا، جسے انہوں نے نفسیاتی حربہ قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی غزہ سے تقریباً 600 ناٹیکل میل دور کی گئی، جو اس سے قبل کسی بھی امدادی بیڑے پر اسرائیلی کارروائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فاصلے پر ہے۔
واضح رہے کہ یہ فلوٹیلا 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ہے جو مختلف ممالک کے کارکنوں کو لے کر اٹلی سے غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا، جسے منتظمین نے اب تک کا سب سے بڑا انسانی امدادی مشن قرار دیا ہے۔
گزشتہ برس بھی اسرائیلی فوج نے اسی فلوٹیلا کی تقریباً 40 کشتیوں کو روک کر 450 سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا، جنہیں بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا، جبکہ کچھ کارکنوں نے حراست کے دوران جسمانی اور ذہنی تشدد کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ