
پونے، 22 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر میں پہلی بار منعقدہ شوٹنگ لیگ آف مہاراشٹر کا اختتام شاندار انداز میں ہوا، جس میں سوبو جائنٹس نے خطاب اپنے نام کیا۔ اس لیگ نے ریاست میں شوٹنگ کے کھیل کی گہرائی اور صلاحیتوں کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔
یہ لیگ مستقبل میں ہونے والی شوٹنگ لیگ آف انڈیا کی تیاری کی سمت میں ایک اہم قدم مانی جا رہی ہے، جس کا مقصد کھیل کے لیے ایک مضبوط مسابقتی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔
مکسڈ ٹیم فائنل میں سوبو جائنٹس نے پالگھر گولڈن فنگر کو 7-17 سے شکست دیکر خطاب جیتا۔ وہیں، تیسرے مقام کے مقابلے میں ’آمی پونیکر‘ نے سانگلی الفا لائنز کو 14-16 سے شکست دی۔
انفرادی اور ٹیم کی کارکردگی بھی شاندار رہی
بہترین رائفل شوٹر: گوجیری (امراوتی دھورندھر) – 55 ہٹ
بہترین پسٹل شوٹر: جاج (سوبو جائنٹس) – 42 ہٹ
بہترین رائفل ٹیم: امراوتی دھورندھر – 89 ہٹ
بہترین پسٹل ٹیم: سوبو جائنٹس – 72 ہٹ
اس لیگ میں مہاراشٹر کے مختلف حصوں، خاص طور پر ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 شہروں کے ابھرتے ہوئے اور تجربہ کار نشانہ بازوں نے حصہ لیا۔ ٹیم پر مبنی اس فارمیٹ نے نچلی سطح (گراس روٹ) اور اعلیٰ سطح کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سابق عالمی نمبر-1 اور اولمپین انجلی بھاگوت نے کہا کہ اس طرح کا فارمیٹ کھلاڑیوں کو دباو میں کھیلنے کا تجربہ فراہم کرتا ہے، جو مستقبل میں بڑے پلیٹ فارمز پر مددگار ثابت ہوگا۔
سابق اولمپین دیپالی دیش پانڈے نے اسے مہاراشٹر رائفل ایسوسی ایشن کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا اور اگلے سال اس سے بھی بہتر انعقاد کا بھروسہ دلایا۔
ہندوستانی ٹیم کے کوچ اور تجربہ کار شوٹر رونق پنڈت نے کہا کہ ایسی لیگز شوٹنگ کو عام لوگوں کے قریب لانے میں مدد کرتی ہیں اور کھیل کو مزید پرکشش بناتی ہیں۔
یہ لیگ ملک کی دوسری ریاستی سطح کی شوٹنگ لیگ ہے، اس سے قبل کرناٹک میں بھی اس کا کامیاب انعقاد ہو چکا ہے۔
شوٹنگ لیگ آف مہاراشٹر نے اپنے پہلے ہی ایڈیشن میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہندوستان میں شوٹنگ کے کھیل کو فرنچائز پر مبنی ڈھانچے کی طرف لے جانے کی سمت میں یہ ایک مضبوط قدم ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن