
جاپان میں 8.0 شدت کے زلزلے کی وارننگ
ٹوکیو، 21 اپریل (ہ س)۔ جاپان کی محکمہ موسمیات کی ایجنسی نے ملک میں 8.0 یا اس سے زیادہ شدت کے بڑے زلزلے کی وارننگ جاری کی ہے۔ یہ انتباہ پیر کی شام آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے چند گھنٹوں بعد جاری کیا گیا۔ یہ زلزلہ شام 4.53 بجے شمالی ایواتے صوبے کے ساحل سے دور بحر الکاہل میں آیا تھا۔ یہ جھٹکا اتنا شدید تھا کہ اس نے دارالحکومت ٹوکیو کی بڑی بڑی عمارتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا، جبکہ ٹوکیو زلزلے کے مرکز سے سینکڑوں کلومیٹر دور واقع ہے۔
’جاپان ٹوڈے‘ اخبار کے مطابق، نئے شدید زلزلے کے آنے کا امکان عام وقت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق، متاثرہ علاقے کی مقامی انتظامیہ نے 182,000 سے زائد رہائشیوں کے لیے غیر لازمی انخلاء کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق، زلزلے کے تقریباً 40 منٹ بعد ایواتے صوبے کے کوجی میں ایک بندرگاہ پر 80 سینٹی میٹر اونچی سونامی کی لہر ٹکرائی۔
جاپان کے چیف کیبنٹ سکریٹری منورو کیہارا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابھی تک کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ قومی نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ کی ویڈیو فوٹیج میں بھی ایواتے کی کئی بندرگاہوں کے آس پاس کوئی واضح نقصان نظر نہیں آیا۔ لیکن حکام نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے ہفتے میں، خاص طور پر اگلے دو سے تین دنوں کے اندر، اس خطے میں شدید زلزلہ آ سکتا ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، حکومت یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ آیا کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا املاک کو کوئی سنگین نقصان پہنچا ہے۔ وزیر اعظم ثنائے تاکائیچی نے کہا، ’’آپ میں سے جو لوگ ان علاقوں میں رہتے ہیں جن کے لیے وارننگ جاری کی گئی ہے، براہ کرم اونچی اور محفوظ جگہوں پر چلے جائیں۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ جاپان دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ زدہ ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ بحر الکاہل کے ’رنگ آف فائر‘ کے مغربی کنارے پر واقع چار اہم ٹیکٹونک پلیٹوں کے اوپر آباد ہے۔ تقریباً 12.5 کروڑ لوگوں کا گھر، یہ جزیرہ نما عام طور پر ہر سال تقریباً 1,500 جھٹکے محسوس کرتا ہے اور دنیا کے تقریباً 18 فیصد زلزلے اسی خطے میں آتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر زلزلے ہلکے ہوتے ہیں، تاہم ان سے ہونے والا نقصان ان کی جگہ اور زمین کی سطح کے نیچے اس گہرائی پر منحصر ہوتا ہے جہاں وہ آتے ہیں۔
جاپان کو 2011 میں آنے والے 9.0 شدت کے سمندری زلزلے کی یاد آج بھی پریشان کرتی ہے۔ اس زلزلے کے بعد آنے والی سونامی میں تقریباً 18,500 لوگ ہلاک یا لاپتہ ہو گئے تھے اور فوکوشیما ایٹمی پلانٹ میں بھاری تباہی مچی تھی۔ 2024 میں محکمہ موسمیات ’نانکائی ٹرف‘ کے قریب ممکنہ بڑے زلزلے کے لیے اپنی پہلی خصوصی وارننگ جاری کر چکا ہے۔ یہ 800 کلومیٹر طویل سمندری خندق وہ جگہ ہے جہاں فلپائن سی کی سمندری ٹیکٹونک پلیٹ آہستہ آہستہ کھسک کر اس براعظمی پلیٹ کے نیچے جا رہی ہے جس پر جاپان واقع ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نانکائی ٹرف میں آنے والا کوئی بھی زلزلہ اور اس کے بعد آنے والی سونامی 2,98,000 لوگوں کی جان لے سکتی ہے اور اس سے دو ٹریلین ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔ دسمبر 2025 میں شمالی ساحل کے قریب 7.5 شدت کے زلزلے کے بعد بھی بڑے زلزلے کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔ اس زلزلے میں 40 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے، لیکن کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن