
جنگ بندی کے درمیان جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے، بقاع وادی میں خاتون اور دو بچوں کی موت
بیروت، 21 اپریل (ہ س)۔ لبنان میں نافذ 10 روزہ جنگ بندی (سیز فائر) کے باوجود اسرائیل کی جانب سے جنوبی علاقوں پر حملے کیے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق، گزشتہ چند گھنٹوں میں کئی قصبوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کاکائیت الجسر قصبے میں دریائے لیطانی کے پاس ڈرون حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ٹائر ضلع کے شمع قصبے میں بمباری ہوئی، جبکہ مرجعیون علاقے کے طیبہ قصبے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ القصیر اور القنطرہ کے درمیانی علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاع ہے۔ تاہم، ان واقعات میں فی الحال کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اس دوران، لبنان کی بقاع وادی میں ہوئے فضائی حملوں میں شہریوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ سحمر قصبے میں علی الصبح تقریباً 3.30 بجے ہوئے حملے میں ایک خاتون اور اس کے دو بچوں کی موت ہو گئی۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لاشیں دور جا گریں۔ وہیں، بچوں کے والد شدید زخمی بتائے جا رہے ہیں اور ان کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔
مقامی رپورٹوں کے مطابق، مشغرہ علاقے میں بھی حملوں سے بھاری نقصان ہوا ہے۔ مسلسل ہو رہے ان واقعات نے سیز فائر کے اثر اور اس کی معتبریت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم، ان حملوں کے حوالے سے اسرائیل کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ وہیں، بین الاقوامی برادری سے صورتحال کو پرامن بنانے اور جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن