
جنگ بندی میں دو دن کی توسیع، اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا انحصار ایران کے رخ پر
تہران/واشنگٹن/اسلام آباد، 21 اپریل (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان آج ختم ہونے والی جنگ بندی (سیز فائر) میں مزید دو دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کا اعلان خود کیا۔ اس وقت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع کرانے کے لیے سفارتی کوششیں زور و شور سے جاری ہیں۔ اب تک ایران نے ایسا کوئی پکا اشارہ نہیں دیا کہ وہ اسلام آباد اپنا وفد بھیج رہا ہے۔ اس کے بالکل برعکس، امریکی وفد اپنے ملک سے پاکستان کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔
سی این این، سی بی ایس نیوز، الجزیرہ اور جیو نیوز کی رپورٹوں کے مطابق، ٹرمپ نے باتوں باتوں میں اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ سیز فائر میں اصل میں تقریباً دو دن کی توسیع کر دی گئی ہے اور اب یہ واشنٹنگ کے وقت کے مطابق بدھ کی شام تک جاری رہے گی۔ بلومبرگ کے ساتھ ایک فون انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ جنگ بندی معاہدہ، جو پہلے 21 اپریل کو رات 8 بجے (مشرقی وقت) ختم ہونے والا تھا، اب ہفتے کے وسط تک چلے گا۔ انہوں نے یہ وارننگ بھی دی کہ اگر نئی ڈیڈ لائن سے پہلے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، تو اس کی مدت کو مزید آگے بڑھانا بہت مشکل ہوگا۔
ٹرمپ نے پیر کو یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دوسرے مرحلے کی ممکنہ بات چیت سے پہلے ایران کی اعلیٰ قیادت سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایک کنزرویٹو ریڈیو پروگرام ’دی جان فریڈرکس شو‘ پر ایک مختصر فون انٹرویو میں ٹرمپ نے اعتماد ظاہر کیا کہ تہران مذاکرات کی میز پر ضرور آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی، ’’ایران معاہدہ کرے گا۔ وہ اپنے ملک کو پھر سے کھڑا کرے گا اور جب وہ ایسا کرے گا تو اس کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوگا۔‘‘
انٹرویو ختم کرنے سے پہلے ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے جواز کو درست ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی کا بھی دفاع کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس سے ایران پر اقتصادی دباو بڑھا ہے اور وہ اسے جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران دباو محسوس ہونے پر ہی مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا اور امریکہ اسے اس کے لیے مجبور کر دے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے فون پر کہا کہ ان کا ملک تمام پہلووں پر غور کر رہا ہے اور آگے کیسے بڑھنا ہے، اس پر فیصلہ کرے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے اشتعال انگیز اقدامات اور مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی سے حالات خراب ہوئے ہیں۔ اہم مذاکرات کار اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو شکست تسلیم کرنے (سرنڈر) کی میز میں بدلنے یا نئے سرے سے جنگ بھڑکانے کو درست ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، تہران کی اعلیٰ قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں بات چیت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ بھی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بھی کہہ دیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی تب تک جاری رہے گی، جب تک تہران کسی معاہدے پر راضی نہیں ہو جاتا۔ لبنان اور اسرائیل دشمنی ختم کرنے کے لیے جمعرات کو واشنگٹن میں بات چیت کرنے والے ہیں، یہ اس وقت ہے جب اسرائیل جنوبی لبنان پر مسلسل بمباری کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن