بھارت مغربی ایشیا کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار: راجناتھ سنگھ
اس وقت جہاز سازی کے میدان میں ہندوستان دنیا کی کسی بڑی طاقت سے کم نہیں ہے نئی دہلی، 2 اپریل (ہ س)۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سب ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ آج
بھارت مغربی ایشیا کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار: راجناتھ سنگھ


اس وقت جہاز سازی کے میدان میں ہندوستان دنیا کی کسی بڑی طاقت سے کم نہیں ہے

نئی دہلی، 2 اپریل (ہ س)۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سب ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ آج ہم مغربی ایشیا میں ایک بڑے تنازع کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ کیرالہ کے بہت سے لوگ ان ممالک میں رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں، لیکن انہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ لوگ طرح طرح کے جھوٹ پھیلا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں بھارت توانائی کے کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

کیرالہ کے دارالحکومت ترواننت پورم میں 'سینک سمان سمیلن' سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ہماری حکومت کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے قابل اور تیار ہے۔ یہ وقت پوری قوم کے متحد ہونے کا ہے۔ بی جے پی نے ہمیشہ بحران کے وقت ملک کا ساتھ دیا ہے۔ یہ وقت پارٹی سیاست کا نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے اکٹھے ہونے کا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی روزانہ اپنی سفارتی صلاحیتوں کو ہندوستانی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کررہے ہیں، جب کہ اپوزیشن اس بحران کی گھڑی میں ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے چھوٹی موٹی سیاست میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیرالہ ہندوستان کی محفوظ ترین ریاستوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کے لوگوں میں قومی دفاع کا اتنا مضبوط جذبہ ہے کہ کیرالی باشندوں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف بحریہ میں بلکہ فوج اور فضائیہ میں بھی خدمات انجام دیتی ہے۔ آج ہندوستان جہاز سازی میں دنیا کی کسی بڑی طاقت سے کم نہیں ہے۔ ہندوستان کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کیرالہ کے کوچین شپ یارڈ میں بنایا گیا تھا۔ بحری شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم قدیم علم اور جدید ٹیکنالوجی دونوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، کیونکہ ہمارا مقصد ہندوستانی بحریہ کو 2047 تک دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور بنانا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہماری حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ہمارے فوجی اور سابق فوجی قوم کے مضبوط ترین ستون ہیں۔ ہماری حکومت نے گزشتہ برسوں میں ہمارے سابق فوجیوں کے لیے بہت سے ٹھوس فیصلے کیے ہیں، اور یہ رجحان مستقبل میں نہیں رکے گا۔ کانگریس نے اس ملک کے سابق فوجیوں کو بھی دھوکہ دیا ہے۔ چار دہائیوں تک، کانگریس نے ”ون رینک، ون پنشن“ کے نام پر ہمارے سابق فوجیوں کو دھوکہ دیا۔ کاغذ پر صرف 500 کروڑ روپے کے ساتھ، کانگریس نے دعوی کیا کہ وہ ون رینک، ون پنشن کو نافذ کرے گی۔ تاہم ہماری حکومت نے اس دیرینہ مطالبے پر خلوص دل سے عمل کیا ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارے سابق فوجیوں کی زندگیوں میں مالی استحکام آیا ہے بلکہ اس یقین کو بھی تقویت ملی ہے کہ این ڈی اے حکومت نے ان کے ساتھ انصاف کیا ہے۔

ہندوستھان سامچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande