
لاتور ، 18 اپریل (ہ س) لاتور کے قدیم ایم آئی ڈی سی علاقے میں واقع موندڈا انڈسٹریز میں لگنے والی بھیانک آگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے مزدور کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرنے اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والے متعلقہ اسکول کی منظوری منسوخ کرنے کے مطالبے پر شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کی جانب سے ضلع کلکٹر کو دو علیحدہ عرضیاں پیش کی گئی ہیں۔
پہلی عرضی میں موندڈا انڈسٹریز میں پیش آئے آتشزدگی کے واقعے میں ایک مزدور کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ متاثرہ خاندان کے معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر معقول مالی امداد فراہم کی جائے اور زخمیوں کو مکمل طبی سہولتیں مہیا کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ فیکٹری میں بڑی مقدار میں گیس سلنڈروں کے غیر قانونی ذخیرے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملے کی جامع تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ ضلع سربراہ بالاجی (بھاؤ) ریڈی نے کیا۔
دوسری عرضی میں ایک اسکول میں بعض غنڈہ عناصر کی جانب سے طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کے واقعات کا ذکر کیا گیا، جو سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ دو دن گزرنے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہونے پر شیوسینا نے ناراضگی ظاہر کی۔ اس تناظر میں متعلقہ اسکول کی منظوری منسوخ کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے